جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان نے ضلع مستونگ کی قومی شاہراہ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے محافظ محمد زمان کی شہادت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دیگر افراد کا زخمی ہونا عدلیہ اور پورے معاشرے پر کھلا وار ہے۔
حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز نہ رہی۔ خون کا سیلاب کب بند ہوگا ترجمان نے کہا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے خونریز واقعات، ٹارگٹ کلنگ اور شاہراہوں پر معصوم شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کا قتل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام اور مفلوج ہو چکی ہے۔
انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایف سی، پولیس اور دیگر اداروں کی بھاری نفری اور چیک پوسٹوں کے باوجود دہشت گرد آزادانہ کارروائیاں کر کے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں جس سے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا صوبائی حکومت جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کے بعد اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی و آئینی جواز نہیں رکھتی۔









