جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی،بی این پی اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، سرفراز بگٹی

27

بلوچستان میں سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف مشترکہ ہے، سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے، مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے، مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت سے متعلق گفتگو میں ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے، مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، توقع ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف مشترکہ ہے، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور اہم فیصلوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، حکومت بلوچستان تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر حکومتی طرز عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی حالیہ تقریر بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری کا اظہار ہے، جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، بلوچستان میں قومی سلامتی اور امن و امان کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے

پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے، سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں تقاضا کرتی ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ گفتگو کی جائے، بلوچستان کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار سے آگاہ ہے، پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا ہوگا

حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ بیانات کے بجائے حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کردہ نتائج کی بنیاد پر لیا جائے، قومی سلامتی کے حساس معاملات پر غیر واضح مؤقف اور زمینی حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری ضروری ہے، دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سیاسی بحث میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ سیاسی گفتگو اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہیں، قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں