بجٹ پر عام بحث جاری ہے ہدایت الرحمن نے بجٹ بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے سوالات اٹھائے انہوں نے کہا کہ مگر چیف سیکرٹری سمیت دیگر سیکرٹریز ایوان میں موجود نہیں، جس پر احتجاج کرتا ہوں، وزیراعلیٰ نوٹس لیں کیونکہ سیکرٹریز کی موجودگی ضروری ہے۔ گوادر کے مسائل پر وزیراعلیٰ نے ہر وقت ساتھ دیا اور میں گوادر کے عوام کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ گوادر کے تمام 313 اسکول کھلے ہیں جبکہ صحت کے 54 مراکز میں سے 10 بند ہیں، میرانی ڈیم سے گوادر کے عوام کو پانی مل رہا ہے۔
صرف عمارتیں اور سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی، بلوچستان میں 58 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ زچگی کے دوران سب سے زیادہ مائیں بلوچستان میں جان سے ہاتھ دھوتی ہیں جبکہ 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 80 فیصد لوگ صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں اور 83 فیصد آبادی گیس کی سہولت سے محروم ہے۔ صوبے میں 60 فیصد سڑکیں خراب اور 78 فیصد کچی ہیں۔
65 لاکھ نوجوانوں کے لیے بجٹ میں صرف 5 ہزار نوکریوں کی بات کی گئی ہے۔ اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتے ہیں۔ سی پیک کا معاہدہ بلوچستان کی وجہ سے ہوا مگر سی پیک فیز ون میں بلوچستان کو کیا ملا؟ یہاں موٹرویز اور بجلی گھر کیوں نہیں بنے؟ لاہور میں اورنج ٹرین پر 260 ارب روپے خرچ ہوئے اور موٹرویز پر 5 ہزار ارب روپے لگائے گئے، بلوچستان میں کتنا خرچ ہوا؟ ہمیں سی پیک، ریکوڈک، گیس اور اپنے وسائل میں حصہ چاہیے۔ ہماری بھی غلطیاں ہیں، بیوروکریسی میں چوری ہوتی ہے اور ہر بل پر ایکسین سے لے کر سیکرٹری تک کمیشن چلتا ہے۔
ایم پی اے کو گھر نہیں ملتا مگر آتش بازی اور ٹی بریک پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ لوگ ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں کئی منصوبے شامل نہیں ہوتے، جشنوں کے لیے بجٹ میں پیسہ ہے مگر غریبوں کے لیے کچھ نہیں۔ کیا بلوچستان میں کمیشن نہیں ہے اور اس پر کتنا فیصد خرچ ہوتا ہے؟ ۔









