بلوچستان میں بد امنی بے روز گا ری اور عدم تحفظ ہے، عوام مصا ئب کا شکارہیں ، مولا نا ہدایت

9

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام اس وقت انتہائی سنگین حالات سے دوچار ہیں۔ بدامنی، بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ حکومت عوام کو ریلیف اورسیکورٹی ادارے تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں “عوامی مسائل بیٹھک”میں وفود سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنیات، ساحلی پٹی، گیس، سونا، تانبا، ریکوڈک، سی پیک اور دیگر بے شمار وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبے کی اکثریت غربت، بے روزگاری، بدامنی اور پسماندگی کا شکار ہیجو حکمرانوں ،طاقتور طبقات کی ناقص پالیسیوں اور بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے تعلیم اور صحت کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کا فقدان ہے، جبکہ اکثر ہسپتالوں میں ادویات، ڈاکٹرز، عملے اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کے باعث عوام کو علاج معالجے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کے منتظر ہیں، مگر حکومت کے پاس انہیں روزگار فراہم کرنے کا کوئی مؤثر منصوبہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین، تاجر، ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر مختلف طبقے اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، جو حکومتی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید خوف و تشویش کا شکار ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل، حقوق کے حصول اور کرپشن، بدامنی، بے روزگاری اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور اور مؤثر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی ہر فورم پر بلوچستان کے عوام کی آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی صورت عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تعلیم و صحت کے شعبوں کو بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور بدامنی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ جب تک صوبے میں شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور عوامی مسائل کے حل، انصاف کی فراہمی اور صوبے کے وسائل پر اہلِ بلوچستان کے حق کے لیے اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں