اسسٹنٹ کمشنر لورالائی کی سربراہی میں کوئٹہ روڈ پر پانی کے غیر قانونی کنکشنز منقطع کر دئیے گئے۔ آپریشن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے ایکسین ڈاکٹر گل محمد اور ان کی ٹیم نے بھی حصہ لیا ۔کارروائی کے دوران کوئٹہ روڈ کے مختلف مقامات پر قائم متعدد غیر قانونی پانی کے کنکشنز منقطع کیے گئے، جبکہ سرکاری پانی کی لائنوں سے غیر قانونی طور پر منسلک پائپ لائنوں کو ہٹانے کے لیے مشکل مقامات پرایکسکیویٹر مشین بھی استعمال کی گئی انتظامیہ اور محکمہ پی ایچ ای کی ٹیموں نے موقع پر پانی کی لائنوں اور کنکشنز کا معائنہ کیا اور غیر قانونی طور پر پانی حاصل کرنے والے کنکشنز کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق غیر قانونی کنکشنز کے باعث پانی کی ترسیل کا نظام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی صارفین کو بھی پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ پی ایچ ای کے افسران نے کہا کہ شہر میں پانی کی منصفانہ اور بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سرکاری پانی کی لائنوں سے غیر قانونی طور پر کنکشن حاصل کرنے اور پائپ لائنوں کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔حکام نے واضح کیا کہ پانی ایک بنیادی شہری ضرورت ہے اور اس کی منصفانہ تقسیم کے لیے سرکاری واٹر سپلائی نظام کو غیر قانونی کنکشنز سے پاک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی لائنوں اور کنکشنز کی نگرانی جاری رکھی جائے اور غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےانتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ پانی کے غیر قانونی کنکشنز سے مکمل طور پر گریز کریں، سرکاری پانی کی لائنوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور پانی کے نظام میں کسی بھی غیر قانونی مداخلت سے اجتناب کریں۔
شہری کسی بھی غیر قانونی کنکشن کی نشاندہی متعلقہ حکام کو کریں تاکہ پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور تمام علاقوں میں دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے انتظامی اور محکمہ جاتی سطح پر موثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔









