بلوچستان کی بہتری کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے، وزیر اعلیٰ سرفرازبگٹی

41

سرکاری محکموں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور عوام کو بہتر، مؤثر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے اور سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، جو افسوسناک صورتحال ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ ہیں، لاہور سے آئے کسی پنجابی کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے۔

بلوچستان میں گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ، یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے لیے سفارشات طلب کر لی گئیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں متعدد محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جس میں مختلف محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے اور سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سرکاری محکموں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور عوام کو بہتر، مؤثر اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے اور سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، جو افسوسناک صورتحال ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ ہیں، لاہور سے آئے کسی پنجابی کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے۔

بلوچستان کی بہتری کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے اور اصلاحات کے لیے کڑے اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام سیکرٹریز کو محکمہ جاتی اصلاحات کے لیے جامع سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی، جبکہ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس کل بھی جاری رہے گا، جس میں اصلاحات کے حوالے سے نتیجہ خیز تجاویز مرتب کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں