امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولاناہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ دینی مدارس امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی اور نظریاتی حفاظت کے مضبوط مراکز ہیں۔مدارس نے ہردورمیں دین اسلام کی سربلندی، اسلامی اقدار کے تحفظ اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
حکومت دینی مدارس کے لیے مشکلات اور غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے آسانیاں پیدا کرے تاکہ یہ ادارے مزید مثر انداز میں اپنی قومی و دینی خدمات جاری رکھ سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے دینی مدارس کے مہتممین کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحق ہاشمی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان میں دینی تعلیم کے فروغ، نوجوان نسل کی اسلامی و اخلاقی تربیت، مدارس کو درپیش مسائل، تعلیمی اصلاحات، دعوتی سرگرمیوں اور موجودہ حالات میں مدارس کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مولانا عبدالحق ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینی مدارس معاشرے میں خیر، اعتدال، امن اور اسلامی شعور کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔
مدارس نے ہمیشہ وطن عزیز کے استحکام، نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور عوام کی دینی رہنمائی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دینی و عصری علوم کا امتزاج ناگزیر ہے، تاکہ نوجوان نسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملک و قوم کی بہتر خدمت کرسکے۔
انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور مثبت فکری تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ایک باصلاحیت، باکردار اور تعلیم یافتہ نوجوان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، انہیں بہتر تعلیمی مواقع، مثبت ماحول اور رہنمائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں مدارس کے منتظمین و مہتممین نے مختلف تجاویز بھی پیش کیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دینی مدارس میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصابی و تربیتی سرگرمیوں کو مزید مثر بنایا جائے گا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان کی جانب سے دینی مدارس کے ساتھ بھرپور تعاون اور تعلیمی و دعوتی سرگرمیوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔رہنماں نے اس امر پر زور دیا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں تعلیم کے فروغ، نوجوان نسل کی کردار سازی اور دینی شعور بیدار کرنے کے لیے حکومت، سماجی اداروں اور دینی حلقوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے کو انتہاپسندی، بے راہ روی اور تعلیمی پسماندگی سے بچایا جاسکے۔









