فاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال چھٹے روز بھی جاری رہی، جس کے اثرات ملک کے بڑے شہروں کی منڈیوں اور سپلائی چین پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز تنظیموں کے مطابق ہڑتال کے باعث قومی معیشت کو اب تک تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ ہڑتال مزید طول پکڑنے کی صورت میں نقصانات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے کہا کہ ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سامان کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار، برآمدی شعبے اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ان کے مطالبات قانونی اور آئینی نوعیت کے ہیں اور وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے کے باوجود تاحال کوئی واضح اور قابلِ عمل پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ محض زبانی یقین دہانیوں یا وعدوں کی بنیاد پر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی بلکہ مطالبات کی منظوری اور ان پر عملی اقدامات کے بعد ہی ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے عہدیداران نے ہڑتال کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب لاہور میں منی مزدا ایسوسی ایشن نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ہڑتال کے اثرات ملک کی بڑی منڈیوں میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ لاہور میں مال بردار گاڑیوں کی روزانہ آمد 100 سے کم ہوکر تقریباً 10 رہ گئی ہے، جس کے باعث سبزیوں، آٹے اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
پشاور میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 150 روپے اضافے کے بعد 3 ہزار 150 روپے ہوگئی ہے، جبکہ دالوں کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ ہوا ہے۔کوئٹہ میں پیاز کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں بھی 50 روپے فی کلو اضافہ ہوا اور یہ 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باوجود چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے سبزیوں کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے، تاہم شہر میں اشیائے خورونوش کی سپلائی پر ہڑتال کے اثرات کے خدشات برقرار ہیں۔
ہڑتال کے باعث برآمدی شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور تیار مصنوعات کو فیکٹریوں سے بندرگاہوں تک پہنچانے میں دشواری پیش آرہی ہے، جس سے برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر نبیل محمود طارق کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل ختم کرنے کے مطالبے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور وہ سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات کا مقصد صرف ہڑتال ختم کرانا نہیں بلکہ ٹرانسپورٹرز کو درپیش بنیادی مسائل کا مستقل اور مؤثر حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔تجارتی حلقوں نے بھی گڈز ٹرانسپورٹرز کی طویل ہڑتال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جلد مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ ملک میں تجارتی سرگرمیاں اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی معمول پر آسکے۔گڈز ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور ان پر عملی پیش رفت تک ملک گیر پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔









