سندھ کا سیلاب جو انڈس ڈیلٹا کے لیے خوشحالی کا پروانہ ہوتا ہے

111

ہم جب ننگر ٹھٹہ سے نکلے تھے تو ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا، مسلسل بارشوں کی وجہ سے تاحدِ نگاہ مکلی کی پہاڑی، راستے، تعمیرات بھیگے سے دکھائی دے رہے تھے۔ مون سون کا برساتی سلسلہ 4 دن خوب برسنے کے بعد ختم ہو گیا تھا مگر دھوپ کم نکلنے کی وجہ سے نظر جہاں تک جاتی ہر منظر بھیگا نظر آتا جبکہ سمندر کے نزدیک ہونے اور پانی کی نظر نہ آنے والی بوندوں کی وجہ سے منظرنامے پر ہلکی نیلے رنگ کی ایک تہہ بچھی ہوئی نظر آرہی تھی۔

ہم نے ٹھٹہ شہر میں ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا دو دو کپ شیریں چائے کے اُنڈیلے اور جب شہر سے شاہ بندر اور کیٹی بندر کے لیے نکلے تو راستوں کے کناروں پر پانی تھا۔ مگر راستے کے کناروں پر موجود کیکر کے درختوں پر بہار چھائی ہوئی تھی۔

موجودہ دنوں پر بات کرنے سے پہلے سندھ کے سمندر کنارے کے متعلق ابن بطوطہ کی کچھ باتیں میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں تاکہ موجودہ زمانے کی تصویر ہمیں صاف نظر آئے۔ ابن بطوطہ 1333ء یعنی آج سے 652 برس پہلے سیہون سے سندھو دریا کے راستے انڈس ڈیلٹا میں اپنے ایک دوست کے ساتھ آیا تھا۔ وہ اپنے سفرنامے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’سندھو دریا دنیا کے بہت بڑے دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے جس طرح مصر کی زراعت کا دار و مدار نیل کی تغیانی پر ہے، اسی طرح یہاں کے باشندے بھی اس کی طغیانی پر جیتے ہیں‘۔

بالکل ایسی بات عبدالرحیم خان خاناں نے 1592ء میں کہی تھی جب وہ اکبر کے حکم کو مانتے ہوئے ٹھٹہ پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ جنوبی سندھ میں پانی کی نہروں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی زمانے میں بغداد نہروں کی بہتات کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں بہت سارے گھاٹ ہیں اور سمندری کنارہ چھوٹی بڑی بندرگاہوں سے بھرا پڑا ہے۔ دھان، گنا، نیر یہاں بہت اُگایا جاتا ہے۔ جھیلیں بہت ہیں جن کی وجہ سے مچھلی اور پرندوں کی فراوانی ہے۔

ابن بطوطہ کے دنوں میں سندھو دریا کا مرکزی بہاؤ، برہمن آباد سے شمال اور مغرب میں دو حصوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ایک بہاؤ جنوب میں نصرپور کے مشرق سے، جنوب مغرب میں ٹنڈو محمد خان کے قریب سے گزرتا ہوا ٹھٹہ کے شمال میں دیبل اور لاڑی بندر کے شمال میں جاکر سمندر میں گرتا تھا۔

ابن بطوطہ لاڑی بندر کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’یہ خوبصورت شہر سمندر کے کنارے واقع ہے۔ قریب ہی سندھو دریا سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ شہر بڑی بندرگاہ ہے۔ یہاں یمن اور فارس کے جہاز اور تاجر زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ شہر بہت مالدار ہے اور اس کا محاصل بھی زیادہ ہے۔ علاء الملک مجھ سے کہتے تھے کہ اس بندر کا محاصل 60 لاکھ دینار ہے۔ امیر الملک کو اس کا 20واں حصہ ملتا ہے باقی مرکزی حکومت میں جمع ہوتا ہے’۔

ہم جب کوٹری ڈاؤن اسٹریم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تب ہم انڈس ڈیلٹا کی بات کر رہے ہوتے ہیں اور کوٹری کے جنوب میں ہزاروں گاؤں اور لاکھوں انسان بستے ہیں جن کا ذریعہ معاش دریا کے بہاؤ پر ہے۔ جب دریا کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تب پانی کی جگہ تیز ریت بہتی ہے اور وہاں رہنے والے لوگ اپنے گاؤں خالی کرکے نقل مکانی کے درد کی گٹھڑیاں اپنے سینے پر رکھ کر بھٹکتے پھرتے ہیں۔

پانی کی روکنے کی داستان کی ابتدا 1830ء میں ہوئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں آب پاشی کا نظام بنایا کہ زراعت زیادہ ہو اور اُن کے کارخانوں کو خام مال مسلسل ملتا رہے۔ 1932ء میں انگریزوں نے ’سکھر بیراج‘ تعمیر کیا۔ یہ سمجھیں کہ دریا کی خوبصورت دیوانگی کو روکنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ پھر 1955 میں ’کوٹری بیراج‘ بنا، 1967ء میں ’منگلا‘ اور پھر 1976ء میں ’تربیلا ڈیم‘ بنا۔ ان تمام منصوبوں کے منفی اثرات انڈس ڈیلٹا پر پڑنے تھے اور پڑے بھی۔

ڈاؤن اسٹریم دریا کا وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں دریا کا سفر اختتام کو پہنچتا ہے۔ یہاں فطرت کی رنگارنگی کا اپنا ایک الگ حُسن ہے۔ جنوبی سندھ کی سمندر کنارے والی زمین کو دریا کی مٹی اور ریت نے بنایا ہے۔ جہاں کا منظر نامہ پورے ملک سے مختلف ہے کہ یہاں جھیلوں کی بہتات ہے (تھی) اور کیوں نہ ہو آخر دریائے سندھ کا ہزاروں کلومیٹرز کا سفر یہاں اس ساحلی پٹی پر آکر جو ختم ہوتا ہے۔

سمندر تک پہنچنے کے لیے جتنے راستے اور بہاؤ دریائے سندھ نے تبدیل کیے ہیں وہ کسی دوسرے دریا نے شاید ہی کیے ہوں۔ ’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘ اس حوالے سے تحریر کرتی ہے کہ ’دریائے سندھ کے سفر کی آخری منزل سے آگے سمندر تک کافی تعداد میں کھاڑیاں یا کریکس (Creeks) جاتی ہیں۔ جنوب مشرق میں ’سیر‘ نامی کھاڑی ہے جو پانی میں پاک و ہند سرحد کا کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھارک، کوچی واڑی، کاجھر، مل، کانہر، ادھیاڑی، سنہڑی، گھوڑو، کھوبر، قلندری، مٹنی، ترچھان، حجامڑو، چھان، دبو، پئٹانی، کھائی، وڈی کُھڈی، ننڈھی کُھڈی، پھٹی، کورنگی اور گزری کریکس ہیں‘۔

یہ کھاڑیاں وہ راستے ہیں جو دریا سمندر تک پہنچنے کے لیے جنوبی سندھ میں آ کر بناتا ہے۔دریاؤں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جن میں ریت اور مٹی کم آتی ہے اور دوسرے وہ جو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں ریت اور مٹی لاتے ہیں۔ ایسے دریاؤں میں ’دریائے نیل‘ اور ’دریائے سندھ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان دونوں میں سے دریائے سندھ اپنے ساتھ سب سے زیادہ زرخیز ریت اور مٹی لانے والا دریا رہا ہے۔ اگر آپ اس تحریر میں شامل تصاویر کو دھیان سے دیکھیں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ پانی کتنا گاڑھا اور مٹیالا ہے۔ یہ پانی زرخیز ریٹ اور خوراک کی ذرات سے بھرا پڑا ہے۔

دریا اپنی ریت سے جو زمین بناتا ہے، ہم اسے ڈیلٹا کہتے ہیں۔ دریا زمین کیسے بناتا ہے؟ میں مختصراً آپ کو بتاتا ہوں۔

دریا کا پانی سمندر کو آگے آتا دیکھ کر چھوٹے پنکھے (بادکش) کی صورت میں پھیل جاتا ہے اور اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت پھیلاتا جاتا ہے جو دھیرے دھیرے سے زمین بنتی جاتی ہے اور جیسے جیسے زمین بنتی جاتی ہے سمندر پیچھے کی جانب ہٹتا چلا جاتا ہے مگر اس کی سطح وہی رہتی ہے۔ جب تیز ہواؤں کے دنوں میں سمندر کی مدافعت بڑھتی ہے تو دریا شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے لیکن اپنے ساتھ لائی ہوئی ریت سمندر کے اندر پھینکتا رہتا ہے۔ اسی طرح سمندر کے اندر ریت کے ٹیلے بنتے جاتے ہیں اور زمین بنتی جاتی ہے۔

اس حوالے سے ہم یہ بخوبی کہہ سکتے ہیں کہ ماضی میں جنوبی سندھ کا مشرق کی جانب والا حصہ (بدین) ایکٹیو ڈیلٹا تھا اور اب مغرب کی طرف (ٹھٹہ) والا حصہ ایکٹیو ڈیلٹا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، جب دریائے سندھ میں طغیانی آتی تھی تو اس طغیانی کے 100 دنوں میں یہ ریت کے 11کروڑ 90 لاکھ معکب گز سمندر کی طرف لے چلتا ہے۔ اگر اس ریت کا مقابلہ ہم نیل ندی سے کریں جو خود ایک زیادہ ریت لانے والا دریا ہے تو یہ پورے ایک برس میں 4 کروڑ معکب گز ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دریائے سندھ میں ریت کی مقدار دریائے نیل سے تین گنا زیادہ ہے۔

ہم کسی مچھلی کے شکار کرنے والے کو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ سمندر یا جھیل کے کنارے گَنا کیوں کاشت نہیں کرتے؟ یا یہ کہ آپ کے پاس مچھلی کے شکار کے بعد جو وقت ملتا ہے، اس میں ان کناروں پر ضرور گندم کاشت کردیا کریں تو شاید یہ کسی بھی کیفیت میں ممکن نہیں ہوگا۔ تو ایک کلچر ہے جس کو ہم موہانہ کلچر کا نام دیتے ہے۔ ڈیلٹا کے اچھے دن اور ڈیلٹا کے بُرے دن ایک کلچر کو زندہ رکھنے یا برباد کرنے کا کام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں