48

قلات اور خضدار کے انتخابات بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہوگا،سینیٹر مولانا عبدالواسع

امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قلات اور خضدار کے انتخابات بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہوگا ۔ اگر ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی جھرلو انتخابات، انجینئرڈ انتخابات اور منظم دھاندلی کا وہی پرانا کھیل دہرایا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف جمہوری عمل کے لیے تباہ کن ہوں گے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ہمیشہ کے لیے متزلزل کر دیں گے۔

آج عوام میں یہ احساس شدت اختیار کر چکا ہے کہ اگر بار بار ان کے مینڈیٹ کو پامال کیا جائے گا تو پھر لوگ گھروں سے نکلنے کے بجائے سیاسی عمل سے ہی کنارہ کشی اختیار کریں گے، اور یوں بالآخر وہی عناصر تقویت پائیں گے جو پہلے دن سے یہ کہتے آئے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام اور اسمبلیاں عوامی مسائل کے حل کا مثر ذریعہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے باشعور عوام یہ سوال بجا طور پر اٹھا رہے ہیں کہ جمعیت علما اسلام کی جیتی ہوئی نشستوں کو آخر ڈھائی سال تک کس مقصد کے تحت روکے رکھا گیا لاکھوں ووٹرز کو ان کے آئینی حقِ نمائندگی سے محروم رکھنا جمہوری اصولوں کی صریح پامالی اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ کھلا مذاق تھا۔

اور جب بالآخر انتخابات کا اعلان کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی حکومتی مشینری پوری قوت کے ساتھ متحرک کر دی گئی۔ متنازع ریٹرننگ افسران کی تعیناتی، انتظامی دبا، من پسند فیصلے اور طرح طرح کے ہتھکنڈے اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ایک مخصوص جماعت کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے شورش زدہ اور حساس صوبے میں بار بار نت نئے سیاسی تجربات اور انجینئرڈ بندوبست مسلط کرنے کے نتائج بھی اربابِ اختیار کے سامنے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی یہاں عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے جھرلو انتخابات اور مصنوعی سیاسی سیٹ اپ نافذ کیے گئے تو اس کے اثرات نے نہ صرف جمہوری عمل کو کمزور کیا بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی خلیج کو بھی مزید گہرا کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود بھی وہی پرانی روش دہرائی جائے گی کیا بلوچستان کو ایک مرتبہ پھر سیاسی تجربہ گاہ بنایا جائے گا یا اس بار واقعی عوام کے فیصلے اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام اس ملک میں جمہوریت کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عوام کے حقِ حاکمیت کی مقدس امانت سمجھتی ہے۔

لیکن جب اسی جمہوریت کو بار بار محلاتی سازشوں، مصنوعی بندوبست اور انجینئرڈ نتائج کے ذریعے مسخ کیا جائے تو پھر خاموش رہنا بھی جرم بن جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قائد جمعیت کی قیادت میں جلد ایک فیصلہ کن جمہوری و عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جمہوریت کو اس کی اصل روح اور حقیقی شکل میں بحال کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ ہر انتخاب میں جمعیت علما اسلام کی جیتی ہوئی نشستوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت چھینا جائے اور پھر ہم سے مصلحت یا خاموشی کی توقع رکھی جائے۔

ہم اپنے ہر ایک ووٹر کے ووٹ کو امانت سمجھتے ہیں اور اس امانت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور عوامی راستہ اختیار کریں گے۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں جس طرح عوامی وسائل کو ضائع کیا گیا، ترقیاتی عمل کو مفلوج کیا گیا اور صوبے کو مختلف بحرانوں کی دلدل میں دھکیلا گیا، اس کے بعد یہ سوال اب پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکا ہے کہ کیا مزید خاموش رہنا ممکن ہی انہوں نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 10 مارچ کو بھرپور طریقے سے گھروں سے نکلیں، اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں اور صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے بھی میدان میں موجود رہیں۔

کیونکہ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں بلکہ عوامی اختیار، جمہوری وقار اور سیاسی مستقبل کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت ہی دراصل جمہوریت کی حقیقی حفاظت ہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں