46

متوفی ملازمین کے کوٹے پر ورثا کو نوکری دینے کا فیصلہ برقرار

سپریم کورٹ نے متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر بچوں اور ورثا کو ملازمت دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کردیں۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔عدالت کے مطابق سندھ سول سرونٹس قانون کا رول 11-A فلاحی اور مفید قانون تھا جس کا مقصد دوران ملازمت وفات پانے والے، معذور یا نااہل قرار دیئے گئے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو سہارا دینا تھا۔

ایسے فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ وسیع مقاصد پر مبنی اور ہمدردانہ انداز میں کی جانی چاہیے تاکہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔

کسی سرکاری ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد کیس کا حکم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آئندہ کے لیے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق ماضی کے معاملات پر نہیں ہوگا۔

دریں اثنا جسٹس ہاشم کاکڑ کے بنچ نے منشیات کے مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143اے کے منافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں