ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے، ڈیڑھ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 38 روپے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔
21 جولائی کے بعد پیٹرول کی قیمت 315 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہوگئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 360 روپے سے بڑھ کر 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
صرف گزشتہ چار روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 24 روپے 93 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرولیم لیوی کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ڈیزل پر لیوی 14 روپے بڑھا کر 66 روپے سے 80 روپے فی لیٹر کردی گئی۔موجودہ قیمت میں پیٹرول پر تقریباً 24 فیصد جبکہ ڈیزل پر تقریباً 25 فیصد لیوی شامل ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے، جو مقررہ ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہیں۔ پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔
رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 1676 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کاربن لیوی کی مد میں بھی گزشتہ مالی سال 50 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔
رواں مالی سال کاربن لیوی کی مد میں 100 ارب روپے سے زائد وصولی کا ہدف مقرر ہے۔
مالی سال 2024-25 میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1220 ارب روپے وصول ہوئے، جبکہ مارچ سے جون 2024 کے دوران پٹرولیم لیوی سے 300 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی۔









