بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کیلیے نمک کی مقدار میں کمی کافی نہیں، طبی ماہرین

10

امریکی ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں تجویز کیا ہے کہ روایتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے سوڈیم (نمک) کی مقدار کم کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے، تاہم نئی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی اس کوشش میں نمایاں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب قلبی صحت کا زیادہ درست اشاریہ ہوسکتا ہے۔

میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق حال ہی میں دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں ہائی بلڈ پریشر کم کرنے سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور تجویز دی گئی ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے لوگ سوڈیم کی مقدار کم کرنے کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم کی مقدار بھی بڑھائیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے زیادہ تر شہری روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں، جو وفاقی اور طبی رہنما اصولوں میں تجویز کردہ2,300 ملی گرام سے زیادہ ہے، جس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ کھانوں سے حاصل ہوتا ہے اور امریکا کے 98 فیصد سے زائد بالغ افراد بھی روزانہ خوراک میں پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار پوری نہیں کرتے۔

ماہرین نے امریکی شہریوں کے اعداد و شمار سے متعلق بتایا کہ یہ اعداد وشمار وضاحت کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کو ’خاموش قاتل‘ کیوں کہا جاتا ہے، ہائی بلڈ پریشر اکثر کئی برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتا رہتا ہے اور امریکا میں تقریباً12 کروڑ افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔

بلڈ پریشر کے لیے پوٹاشیم کیوں اہم ہے؟

ماہرین نے تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ سوڈیم اور پوٹاشیم کا تناسب صرف سوڈیم کی مقدار کے مقابلے میں قلبی صحت کے نتائج کا زیادہ درست اندازہ لگاتا ہے، زیادہ مقدار میں سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک ہے۔

آر ڈی این، سی ایس آر، ایل ڈی این بورڈ سے تصدیق شدہ ماہر غذائیت برائے امراض گردہ ہرنینڈز نے بتایا کہ 2025 میں کی گئی ایک میٹا تجزیاتی تحقیق میں معلوم ہوا کہ روزانہ تقریباً دو ہزار ملی گرام پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 5 ملی میٹر مرکری اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 3 mmHg تک کم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پوٹاشیم اس توازن کو برقرار رکھنے میں اس طرح مدد کرتا ہے کہ یہ سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرتا ہے، جسم سے اضافی سوڈیم خارج کرنے میں مدد دیتا ہے اور خون کی نالیوں کو پھیلنے اور ڈھیلا ہونے میں معاونت کرتا ہے۔

فلوریڈا کے بورڈ سے تصدیق شدہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر لیونارڈ پیانکو نے کہا کہ اگرچہ موجودہ طبی اصول بلڈ پریشر کم کرنے کے لیےکم سوڈیم والی خوراک کو ترجیح دیتے ہیں لیکن خوراک میں پوٹاشیم شامل کرنے کی بات کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جسم میں اندرونی توازن برقرار رکھنے کے لیے پوٹاشیم ایک اہم معدنی جز ہے اور اس کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہونا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور یہ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ سوڈیم اور پوٹاشیم جسم میں پانی کے توازن اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ساتھ کیسے کام کرتے ہیں جبکہDASH جیسے متوازن غذائی منصوبے بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں