بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں خوراک کے بہتر معیار کو یقینی بنانے کیلئے جاری خصوصی مہم کے دوران کوئٹہ، خضدار، ہرنائی، ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی اور کچلاک میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر متعدد خوراک کے مراکز کو جرمانہ، 29 اصلاحی نوٹسز جاری جبکہ ایک دودھ کی دکان اور ایک غیر قانونی سرکہ و مشروبات تیار کرنے والے یونٹ کو سیل کر دیا۔
کارروائیوں کے دوران بیکنگ یونٹس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، سپر اسٹورز، پیزا پوائنٹس، جوس و آئس کریم شاپس اور دیگر فوڈ بزنسز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جبکہ کوئٹہ کے اسپنی روڈ، بروری روڈ، کاسی روڈ اور میکانگی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں صفائی، خوراک کے معیار، اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
کچلاک میں خفیہ اطلاع پر ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے غیر قانونی شربت، سرکہ اور جوس تیار کرنے والے غیر رجسٹرڈ یونٹ پر کامیاب چھاپہ مارا۔
کارروائی کے دوران یونٹ کو موقع پر سیل کر دیا گیا جبکہ غیر معیاری شربت، سرکہ اور جوس کی بڑی مقدار قبضے میں لے لی گئی۔ مزید یہ کہ مصنوعات پر گمراہ کن لیبلنگ، جعلی معلومات اور غلط پتے کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا۔ تیار شدہ مشروبات کے نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خضدار میں دودھ فروشوں کے خلاف ہدفی کارروائی کی گئی۔ جدید ملک اینالائزر کے ذریعے دودھ اور دہی کے نمونوں کی جانچ کے دوران ملاوٹ اور سکمڈ ملک کی آمیزش ثابت ہونے پر ایک دودھ کی دکان سیل، دو دودھ فروشوں کو جرمانے جبکہ پانچ فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائی کے دوران سکمڈ ملک پاؤڈر، اس کے خالی تھیلے، غیر معیاری دہی، ناقص صفائی، کھلے برتنوں میں دودھ کی ذخیرہ اندوزی اور حشرات کی موجودگی جیسے سنگین نقائص بھی سامنے آئے۔
ہرنائی میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیم نے دودھ کے نمونوں کی جانچ کے دوران ایک ملک سیمپل میں 30 فیصد جبکہ دوسرے میں 23 فیصد پانی کی ملاوٹ اور ایک سیمپل میں سکمڈ ملک کی آمیزش ثابت ہونے پر دو مراکز کو جرمانے کیے جبکہ چار فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی فخرالدین مری کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں ہر قیمت پر جاری رہیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر معیاری خوراک و مشروبات تیار کرنے والوں کے لیے بلوچستان میں کوئی رعایت نہیں، قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں معائنوں اور کریک ڈاؤن کو مزید مؤثر اور تیز بنا رہی ہے۔









