بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شہریوں کے لیے جدید، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا، سریاب سے کچلاک کے درمیان بلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ میٹرو ٹرین جناح پیپلز ٹرین سروس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے جناح پیپلز ٹرین سروس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی و وفاقی حکام، سیاسی شخصیات، ریلوے حکام اور شہریوں نے شرکت کی۔
جناح پیپلز ٹرین سریاب اور کچلاک کے درمیان 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر چلائی جائے گی، جس کے لیے شہریوں کی سہولت کے پیش نظر 7 اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ دو بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں بیک وقت 198 مسافروں کے بیٹھنے جبکہ 30 مسافروں کے کھڑے ہوکر سفر کرنے کی گنجائش ہے۔
ٹرین سروس کا مقصد کچلاک، سریاب اور ملحقہ علاقوں سے کوئٹہ شہر آنے جانے والے طلبہ، ملازمین، مزدوروں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ اس سے شہر کی مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کے دباوٴ میں بھی کمی لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میٹرو ٹرین سروس کے آغاز کے معاملے میں ملک کے دیگر صوبوں سے آگے نکل گیا ہے۔ بلوچستان کی یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے جواب ہے جو بلوچستان کو پاکستان کا ماتھے کا جھومر قرار دیتے ہیں۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا ریلوے نظام تاریخی اور خوبصورت ہے، ملک کے کسی دوسرے صوبے میں اس نوعیت کا ریلوے نظام موجود نہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ 120 روز میں اسی طرز کی ایک اور ٹرین چلائی جائے۔ ان کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کا آغاز جنوری میں ہوگا اور یہ منصوبہ تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کا ہے۔
جناح پیپلز ٹرین سروس کے لیے کرایہ 50 سے 100 روپے تک تجویز کیا گیا ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو کم اخراجات میں باقاعدہ سفری سہولت میسر آئے گی۔ سروس سے کچلاک، سریاب اور اطراف کے علاقوں سے روزانہ کوئٹہ آنے والے طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، مزدوروں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کے سفری اخراجات اور وقت میں بچت متوقع ہے۔
گرین اور پنک بس سروس کے بعد جناح پیپلز ٹرین سروس کوئٹہ کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں ایک اور اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔









