ایران کے سیستان و بلوچستان میں بلوچ مسلح اتحاد کے حملوں میں اضافہ، حکومتی گرفت کمزور ہونے کا خدشہ، امریکی میڈیا رپورٹ

26

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے شورش زدہ جنوب مشرقی صوبوں سیستان و بلوچستان اور کرمان میں ایرانی اپوزیشن گروپوں کے ایک نئے اتحاد نے مذہبی حکومت کے خلاف مسلح حملوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

عوامی جنگجو محاذ (جے ایم ایم) کے نام سے معروف اس اتحاد کی جانب سے کیے گئے 6 حملوں نے ان صوبوں میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے، جس کے بعد یہ اہم سوالات سامنے آئے ہیں کہ آیا تہران کی مذہبی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت دوسرے علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور آیا حکومت سیستان و بلوچستان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے گی، جو ایران کا سنی اکثریتی صوبہ ہے۔

ایران کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، جبکہ ملک کی سنی اقلیت کو کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔ سیستان و بلوچستان ایران کے 31 صوبوں میں رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران پر تفصیلی تحریری کام کرنے والے ایران امور کے ماہر ماردو سوگھوم نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:

’’سنی آبادی میں بے چینی حکومت کی فوجی اور داخلی سلامتی کی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے اور اس کی فورسز پر نفسیاتی اثرات مرتب کرسکتی ہے، اس کے علاوہ وہ 40 روزہ امریکی اور اسرائیلی کارروائی کے دوران بھی حالات کا سامنا کرچکی ہیں۔ مسلح گروپ جنوب مشرقی علاقے پر کنٹرول قائم نہیں کرسکیں گے، تاہم وہ اس علاقے پر حکومت کی گرفت کو شدید کمزور کرسکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ:

’’آیا ان گروپوں کو اسلامی جمہوریہ کے مخالفین، خواہ وہ خلیجی عرب ریاستیں ہوں یا اسرائیل اور امریکا، کی جانب سے مدد مل رہی ہے یا نہیں، یہ اب بھی ایک کھلا سوال ہے۔‘‘

اکتوبر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان صوبوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا:

’’رپورٹنگ کی مدت کے آخری 18 دنوں میں تشدد کے 18 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس سے پہلے کسی بھی مکمل مہینے میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہیں۔‘‘

دسمبر 2025 میں جے ایم ایم نے بلوچ قوم پرست تنظیموں اور سنی مسلح گروپ جیش العدل کے امتزاج سے ایک اپوزیشن اتحاد کی شکل اختیار کی۔

ایچ آر اے این اے کے مطابق، 31 مارچ سے 10 اکتوبر 2026 کے درمیان ایران کے جنوب مشرقی صوبوں سیستان و بلوچستان اور کرمان میں مسلح تشدد کے کم از کم 63 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو خطے میں مسلح کارروائیوں میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان واقعات کے نتیجے میں کم از کم 94 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے، جبکہ سرکاری ذرائع نے 87 ہلاکتوں اور 10 زخمیوں کی اطلاع دی۔

بلوچ اتحاد نے 14 اکتوبر کو سیستان و بلوچستان میں بسیج کی خواتین اہلکاروں، جن میں ایک کمانڈر اور ایک پولیس افسر بھی شامل تھیں، کو ہدف بنا کر ہلاکتوں کی کارروائی کی، جس نے ایرانی حکومت کو حیران کردیا۔

بسیج ایک نیم فوجی تنظیم ہے، جسے امریکی حکومت نے دہشت گرد قرار دی گئی ایرانی تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے وابستگی کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

خاتون بسیج کمانڈر پر حملے سے چند روز قبل ایرانی حکومت کے زیرِ کنٹرول ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ صوبائی پولیس کمانڈ کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب نصرت افتخاری زاہدان، صوبہ سیستان و بلوچستان میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔

ایران مخالف پالیسی پر کام کرنے والی تنظیم یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (UANI) کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’’گزشتہ برسوں کے دوران صوبہ سیستان و بلوچستان میں بدامنی کے وقفے وقفے سے ادوار دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔ اب ہم اس سرگرمی میں اضافے کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ آئی آر جی سی کی زمینی افواج کے موجودہ کمانڈر محمد کرمی اس سے قبل صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں اور وہاں آئی آر جی سی کی فورسز کی کمان بھی کرچکے ہیں۔ 2025 میں انہیں اس عہدے پر ترقی دینے کی ایک وجہ ملک کی حساس سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں صوبے میں ان کا تجربہ بھی تھا۔‘‘

بروڈسکی نے مزید کہا:

’’مجھے فی الحال ایسا کوئی فوری خطرہ نظر نہیں آتا کہ یہ گروپ علاقے کا کنٹرول سنبھال لیں گے، لیکن ایرانی عوام، بالخصوص اپوزیشن کے لیے ایک سرخ لکیر ایران کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔ مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں اس نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

بلوچ کارکن اور صحافی خلیل اللہ بلوچ نے ایران انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’’ان گروپوں کی سرگرمیاں نئی نہیں ہیں، نئی بات حملوں میں شدت آنا ہے۔‘‘

فاکس نیوز کے مطابق، ایرانی حکومت کو نشانہ بنانے والے جے ایم ایم کے حملوں نے ایرانی حکومت کے مخالفین اور ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے شعبہ تعلقات عامہ میں فارسی میڈیا کے تجزیہ کار کے طور پر کام کرنے والے نوید محبی نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’’نئے تشکیل پانے والے عوامی جنگجو محاذ نے حالیہ مہینوں میں صوبہ سیستان و بلوچستان میں حکومت کے درمیانے درجے کے عہدیداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف نسبتاً کامیاب حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس سے اسے عوامی سطح پر کسی حد تک توجہ حاصل ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت روزانہ مظاہرین کو پھانسی دے رہی ہے، درمیانے درجے کے بعض سکیورٹی اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کو ایرانی معاشرے کے کچھ حلقوں نے اطمینان کے ساتھ دیکھا ہے۔‘‘

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ:

’’اس کے باوجود ایرانی عوام ان گروپوں کے بارے میں گہری احتیاط برتتے ہیں اور بڑی حد تک ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ اس عدم اعتماد کی دو بڑی وجوہات ہیں: علیحدگی پسندی کے عزائم کا امکان اور بنیاد پرست اسلام پسندی کا اثر، جو ایرانی معاشرے کے بڑھتے ہوئے سیکولر رجحان سے بنیادی طور پر متصادم ہے۔‘‘

محبی کے مطابق، جے ایم ایم کی جانب سے کچھ حوصلہ افزا اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا:

’’اتحاد کے حالیہ بیانات میں، ماضی میں ایسے گروپوں سے وابستہ روایتی بیانیے کے برعکس، بلوچ علیحدگی پسندی کا کوئی واضح حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے اتحاد نے اپنا بنیادی مقصد ولایتِ فقیہ کے نظام کو ختم کرنا اور ملک کو اس کے جبر سے آزاد کرانا قرار دیا ہے۔ اتحاد نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ’تمام ایرانیوں کے لیے ایک ایران‘ چاہتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:

’’حقیقت یہ ہے کہ ان گروپوں میں روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ تاہم، گوریلا کارروائیوں کے ذریعے وہ حکومت اور اس کے سکیورٹی اداروں کو شدید نفسیاتی دھچکے پہنچا سکتے ہیں۔ سیستان و بلوچستان سے باہر ان کی سرگرمیوں کو کس حد تک پذیرائی ملتی ہے، اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وہ عوام کا وسیع تر اعتماد حاصل کرنے کی اپنی بظاہر کوشش کو جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔‘‘

اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز (INSS) سے وابستہ ایران امور کے ماہر بینی سبتی نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کے پاس ’’بڑی تعداد میں اسلحہ‘‘ موجود ہے اور اس نے ایرانی حکومت کے خلاف صوبوں میں ’’مسلح بغاوت‘‘ شروع کردی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق یہ مسلح شورش بلوچستان کے علاقے تک محدود ہے۔

تہران میں پیدا ہونے والے سبتی نے کہا کہ دارالحکومت تہران میں قائم مذہبی حکومت کو صوبوں پر مضبوط کنٹرول حاصل نہیں، اور یہ صورت حال جنوبی امریکا کے بعض علاقوں سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں کچھ حکومتیں مسلح ملیشیاؤں کے ہاتھوں اپنے اقتدار اور عمل داری سے محروم ہوگئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس شورش زدہ علاقے میں صحافی موجود نہیں ہیں، جس کے باعث درست خبریں حاصل کرنا مشکل ہے۔

سبتی کے مطابق:

’’آئی آر جی سی کا وہاں ایک ہیڈکوارٹر موجود ہے، جو ان بلوچوں کے خلاف لڑنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جے ایم ایم اتحاد ’’صرف فوجیوں کو نقصان پہنچانے اور وقتاً فوقتاً کسی کمانڈر کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران میں ایسے مقامی کمانڈر بہت زیادہ ہیں۔ یہ فضائیہ کے کسی کمانڈر جیسا معاملہ نہیں ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں