بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ دسابق وزیر اعلیٰ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ مسخ شدہ لاشوں، اجڑی ماؤں اور یتیم بچوں کے بعد بھی بلوچستان سے انصاف نہ ہوا، وزیراعظم ! بندوق مسئلے کا حل نہیں تو توپیں، ٹینک اور جیٹ طیارے کس مسئلے کا حل ہیں ایکس پر اپنے کئے گئے ٹوئیٹ میں سردار اختر جان مینگل نے وزیراعظم کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اعتراف تو ہر حکمران نے کیا، تاہم ان زیادتیوں کے ازالے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ وزیراعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ بات چیت ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال سے کیا کبھی مسائل حل ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جن زیادتیوں کا اعتراف کر رہے ہیں، ان سے پہلے بھی آنے والے حکمران ان واقعات کا اعتراف کرنے کے ساتھ معافیاں مانگتے رہے ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام کو مسخ شدہ لاشوں، ماؤں کی اجڑی گودوں، یتیم ہونے والے بچوں، جلائے گئے اور تباہ کیے گئے دیہات اور خواتین و بچوں کی گرفتاریوں کے سوا کیا ملا انہوں نے بلوچستان کے وسائل اور ساحل سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ساحل اور وسائل کے استحصال کے علاوہ بلوچستان کے ساتھ کیا انصاف کیا گیا ہی انہوںنے وزیراعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا کہ کیا توپیں، ٹینک، جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حکومت کے اختیار میں نہیں اور کیا حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے استعمال سے بلوچستان کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ شاید وزیراعظم ان سوالات کا جواب اس وقت نہ دے سکیں، تاہم اگر کبھی وہ حزبِ اختلاف میں آئے تو تاریخ ان سے ضرور یہ سوالات پوچھے گی۔









