پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ کرپٹ حکومت کی عجب کرپشن کی ایک اور غضب کہانی سامنے آ گئی۔
خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی دور حکومت میں محکمہ تعلیم میں صرف ایک سال کے دوران 92 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔ اس عرصے کے دوران شہرام ترکئی صوبائی وزیر تعلیم تھے۔
ایک سال کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے ذریعے بھرتی نئی اساتذہ کو ٹیبلٹ کی فراہمی میں 37کروڑ 43 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
15ہزار افراد میں 42کروڑ 47 لاکھ روپے کےٹیبلٹ تقسیم کئے گئے جس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، تاہم اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف1ہزار779ٹیبلٹ ڈائریکٹوریٹ کو واپس کیے گئے باقی 13ہزار221ٹیبلٹ غائب ہوئے۔
سال 2022-23ء کے دوران بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان میں کاغذ خریداری کی مد میں 4کروڑ87لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔
سرکاری قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے منظور نظر فرم کو ٹھیکہ دینے سے خزانہ کو 19کروڑ20لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
بورڈ چیئرمین نے ایگزیکٹیو الاونس کی مد میں 71لاکھ روپے نکلوائے جن کے وہ مجاز نہیں تھے ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسمارٹ فونز خریداری کی مد میں بھی خزانہ کو ایک کروڑ30لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔









