20

انتظامیہ حاوی رہی، 2025 عدلیہ کی آزادی کیلیے بدتر سال

اسلام آباد:

26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے بدتر سال کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

پورے سال کے دوران انتظامیہ اعلیٰ عدلیہ پر حاوی رہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ تین سینئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے۔

تاہم حکومت تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہی اور جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کے سربراہ کے طور پر نامزد کر دیا۔ آئینی بنچوں کیلئے حکومت کے ہم خیال ججوں کی اکثریت کو نامزد کیا گیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی ججوں کی کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کو ترجیح ہی نہیں دی۔

آئینی بنچ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کردی۔ بنچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی الٹ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے انتخابات کے بعد مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حقدار ہے۔

اس سے موجودہ حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی۔ حکومت نے مختلف ہائی کورٹس سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا۔

ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی تین ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے پر اپنی رضامندی ظاہر کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں