بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل جرگوں،مذاکرات، مکالمے اور آئین و قانون کے دائرے میں باہمی افہام و تفہیم سے ممکن ہے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

31

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل تشدد، طاقت کے استعمال اور جبر میں نہیں بلکہ جرگوں،مذاکرات، مکالمے اور آئین و قانون کے دائرے میں باہمی افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ آج بلوچستان میں خوف،بے یقینی، بدامنی،لاقانونیت اور عوامی محرومیوں نے سنگین صورتحال اختیارکرلی ہے،گزشتہ کئی برسوں سے اختیار کی جانے والی غلط پالیسیوں،طاقت کے بے جا استعمال اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث نوجوانوں کا سیاست، جمہوریت اور ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات، جرگوں اور سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پورے بلوچستان میں ممبرسازی اور دعوتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد عوام، بالخصوص نوجوانوں، طلبہ، علماء کرام، خواتین، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دیانت دار، نظریاتی اور عوامی سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے تاکہ صوبے میں ظلم، ناانصافی، کرپشن، بے روزگاری اور محرومیوں کے خلاف مؤثر جدوجہد کی جا سکے۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی تعصب، لسانیت، فرقہ واریت اور نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اسلامی اقدار، جمہوری جدوجہد، آئین کی بالادستی، عوامی حقوق، شفاف طرز حکمرانی اور انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے، جماعت اسلامی موروثی سیاست، کرپشن، اقربا پروری اور لوٹ مار سے پاک ایک منظم، باکردار اور ملک گیر سیاسی و دینی تحریک ہے، جس کا ہر کارکن خدمت، دیانت اور عوامی فلاح کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، صوبے میں تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، امن و امان اور انفراسٹرکچر کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور سیکیورٹی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اجتماعی مسائل کے حل کے بجائے طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور سخت گیر رویوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے، جس سے نفرت، تشدد اور بے اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوان اس صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں مایوسی، تشدد اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کے بجائے تعلیم، روزگار، باعزت مواقع اور مثبت سیاسی و سماجی کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہی بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

امولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان کے عوام،نوجوانوں،علماء کرام، طلبہ،خواتین،تاجروں اور دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی ممبرشپ حاصل کریں، دعوتی و تنظیمی مہم کا حصہ بنیں اور ایک ایسے بلوچستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں جہاں انصاف، امن، ترقی، خوشحالی، دیانت دار قیادت اور عوامی حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ جماعت اسلامی عوام کی طاقت سے بلوچستان میں نفرت، تعصب،فرقہ واریت، کرپشن اورلوٹ مارکی سیاست کاخاتمہ کرکے خدمت،دیانت،جمہوری جدوجہد اورعوامی شراکت سے مثبت اور پائیدار تبدیلی لانے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں