بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں تحصیلداروں کی بھرتی سے متعلق شکایات پر کمیٹی قائم کردی گئی ہے ، سرفرازبگٹی

16

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں تحصیلداروں کی بھرتی سے متعلق شکایات پر کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس کی رپورٹ میڈیا کے سامنے لائی جائے گی، حکومت بلوچستان گورننس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جانے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ ڈیجیٹلائزیشن سے عوامی خدمت، شفافیت اور سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آتی ہے بلوچستان پولیس کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی اور اپ گریڈ کی گئی ایپلی کیشنز عام شہری کو نہ صرف کریمنل جسٹس سسٹم بلکہ روزمرہ کی شکایات اور مشکلات کے ازالے میں بھی سہولت فراہم کریں گی، جبکہ خواتین اور شہداء کے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی ڈیجیٹل سہولیات عوامی اعتماد میں اضافے کا باعث بنیں گی۔ حکومت اس صورتحال کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی بھرتیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحصیلداروں کی بھرتی کے عمل میں ایک اندرونی غلطی ان کے نوٹس میں آئی ہے جسے درست کرنے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سات سے دس دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی رپورٹ موصول ہونے کے بعد میڈیا اور عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت کی پالیسی صرف اور صرف میرٹ ہے، میرٹوکریسی، میرٹوکریسی اور میرٹوکریسی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اس نوجوان نسل کو ریاست کے ساتھ دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے جسے پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستان اور ریاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت میرٹ کو فروغ دے گی اور کسی بھی صورت میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کرے گی خواہ اس کے لیے سیاسی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ پبلک سروس کمیشن ہو یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹنگ سسٹم، حکومت میرٹ پر قائم رہے گی انہوں نے حالیہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی بھرتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے سے تقریباً 20 سے 25 افراد نے درخواستیں دی تھیں، اگر وہ چاہتے تو بحیثیت سیاستدان اور اپنے حلقے کے نمائندے کی حیثیت سے انہیں ملازمت دلوا سکتے تھے، لیکن حالیہ بھرتیوں میں ڈیرہ بگٹی کا ایک بھی امیدوار شامل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھرتیاں خالصتاً میرٹ پرv ہوئی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کا کوئی نوجوان میرٹ پر آنا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے میدان کھلا ہے، لیکن اگر کوئی میرٹ پر آنے کے بجائے یہ توقع رکھے کہ وزیراعلیٰ میرٹ کی خلاف ورزی کرکے اسے کسی عہدے پر لے جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ سیاستدان ہیں، ان کا حلقہ انتخاب اور ووٹرز بھی ہیں اور سیاسی توقعات بھی، تاہم اگر میرٹ پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے انہیں الیکشن ہارنا پڑے یا سیاسی سرمایہ ضائع ہو تو وہ اس کی بھی پروا نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ریاست ان کے لیے ہر سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہے، حتیٰ کہ وہ ریاست کو اپنی 70 سالہ والدہ سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں اس لیے باقی تمام معاملات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ ہی کلید ہے اور اچھی گورننس کی بنیاد بھی میرٹ پر ہی رکھی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں