پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں حکومت بمقابلہ مولانا فضل الرحمان خوب میدان لگا ہوا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی بیٹھکوں میں اسے بہت سنگین صورتحال بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن میرے نزدیک حقائق بظاہر نظر آنے والے واقعات سے مختلف ہیں اور اس کے نتائج بھی مختلف ہوں گے۔
ایک اندر کی بات محسن نقوی کررہے ہیں تو دوسری جے یو آئی والے۔ محسن نقوی گورنر راج کے حوالے سے جے یو آئی کے مخفی یا دوہرے بیانئے کی جھلک دکھا کر پی ٹی آئی کو ان سے دور کررہے ہیں۔ یہ نقوی صاحب کی بڑی سوچی سمجھی سٹیٹمنٹ ہے۔ محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ گورنر راج لگا کر پی ٹی آئی کے جس جن کو بوتل میں بند کردیا ہے۔ مولانا نوابزادہ نصر اللہ بننے کے چکر میں کہیں اس کا ڈھکن نہ کھول دیں اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کوئی متحدہ اپوزیشن بنا کر نئی دھماچوکڑی نہ مچا دیں۔ اسی لئے انہوں نے گورنر راج کے حوالے سے مولانا کی مبینہ آف دی ریکارڈ گفتگو کی جھلک دے کر متحد ہوتی ہوئی اپوزیشن کو منتشر کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں شعلہ فشانی کی بات کرلیتے ہیں۔ اگرچہ خواجہ صاحب نے بھی مولانا کے خلاف تقریر میں اپنے تمام پارلیمانی مہارت کے کارتوس چلا دئیے۔لیکن میں اسے زیادہ سنگین نہیں سمجھتا۔ خواجہ آصف کا کیس محض اتنا ہے کہ وہ ایک حلقے والے سیاستدان ہیں۔ جنہوں نے ہر جمعہ کے جمعہ اپنے حلقے میں اپنے لوگوں کے پاس جاکر ڈیرہ لگانا ہوتا ہے۔ اب مولانا کے ہاتھوں زچ ہوکر وہ اس ملبے کو سر پر اٹھا کر حلقے میں اپنے لوگوں کا سامنا کیسے کرتے اس لئے جمعہ سے پہلے پہلے ایوان میں ہی اس کا جواب دینا ان کی مجبوری تھی۔ اس کا اظہار انہوں نے تقریر کے اختتام پر یہ کہہ کر کر بھی دیا کہ میں نے کل کا ادھار چکا دیا ہے۔ یہ بھی جمع خاطر رکھیں کہ ہم جلد خواجہ آصف اور مولانا کو بتیسی نکالے بغلگیر ہوتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اصل معاملہ میاں نوازشریف کا ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ مولانا کے حوالے سے وزیر داخلہ کی جارحانہ پالیسی کا کس حد تک ساتھ دیتے ہیں؟ میری دانست میں اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نون لیگ کبھی مولانا سے حتمی قطع تعلق نہیں کریگی۔ مولانا آئندہ الیکشن میں ایک بار پھر نوازشریف کے اتحادی ہوسکتے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا مقابلہ نہ مولانا اکیلے کرسکیں گے اور نہ ہی نوازشریف۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ نون لیگ کی یہ پوری کوشش ہوگی کہ مولانا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن جائیں۔ اچکزئی نسبتاً عملیت پسندی سے عاری شخصیت ثابت ہوئے ہیں اس لئے اگر اپوزیشن لیڈر کا چیمبر مولانا کے پاس ہو تو مستقبل میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری،انتخابی اصلاحات اور نگران سیٹ اپ جیسے معاملات زیادہ بہتر طور پر انجام پا جائیں گے۔ اس لئے ہو سکتا مولانا کا لہجہ اس سے بھی سخت دیکھنے میں آئے۔ اور نون لیگ بڑے سمارٹ انداز میں انہیں اپوزیشن لیڈر بننے میں اسی طرح سہولت کاری کرے جیسے 2002 کے الیکشن کے بعد کیا تھا۔









