جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف جاری کردار کشی، دینی مدارس کو غیر ضروری نوٹسز کے ذریعے ہراساں کرنے اور جمعیت کے رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ ایک ہی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔
کوئٹہ ویسٹ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز کا اجراء قابلِ مذمت ہے۔ مقامی اور ناتجربہ کار افسران کو استعمال کرکے دینی مدارس اور ان کے ذمہ داران پر دباؤ ڈالنے والوں کو ہم بخوبی جانتے ہیں۔ مدارس دینی و تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں سرکاری نوٹسز اور انتظامی دباؤ کے ذریعے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔
بلوچستان اسمبلی میں مدارس بل پیش کرنے سے راہِ فرار اختیار کرنے کے بعد اب بلیک میلنگ اور ہراسانی کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں حالانکہ مدارس کی رجسٹریشن کی راہ میں رکاوٹ خود صوبائی اور وفاقی حکومت ہے، مدارس نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف منظم پروپیگنڈا، ان کی رہائش گاہ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ڈرون کیمروں سے ویڈیوز بنانا اور مولانا اسعد محمود کے تاریخی سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی کردار کو متنازع بنانے کی کوششیں انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک قومی اور دینی سیاسی قیادت کی تضحیک اور کردار کشی کی منظم مہم ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
صوبائی امیر نے کہا کہ کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کے گھر پر چالیس سے زائد افراد کے دھاوے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں۔ ایک سینئر سیاسی رہنما اور معروف قانون دان کے گھر اس انداز میں کارروائی کرنا کون سا قانون اور کون سا جمہوری طرزِ عمل ہی کامران مرتضیٰ صاحب کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ قائد جمعیت کے مؤقف کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ سیاسی اختلاف کا جواب دلیل اور جمہوری مکالمے سے دیا جاتا ہے نہ کہ گھروں پر دھاووں، خوف و ہراس اور سرکاری طاقت کے بے جا استعمال سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن، مولانا اسعد محمود، کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اور جمعیت کے دیگر قائدین کے خلاف کردار کشی، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا ہر حربہ مسترد کرتے ہیں۔ سرکاری وسائل اور انتظامی اختیارات کو سیاسی مخالفین کی تضحیک اور آواز دبانے کے لیے استعمال کرنا ریاستی اختیار کا بدترین ناجائز استعمال ہے۔
ہماری شرافت، سیاسی رواداری اور جمہوری طرزِ سیاست کو کمزوری سمجھنے والے سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ قیادت کی عزت و حرمت، دینی مدارس کے حقوق اور جماعت کے سیاسی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبائی امیر کی حیثیت سے ان کی ہدایت پر 6 نومبر کو بلوچستان کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہوں گی، جن کے ذریعے حکومتی انتقامی ہتھکنڈوں، قیادت کی کردار کشی، مدارس کو ہراساں کرنے اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف طاقت کے استعمال پر بھرپور عوامی ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام ایک معتدل، سنجیدہ اور جمہوری سیاسی جماعت ہے جو معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانے کے بجائے سیاسی مکالمے اور آئینی و جمہوری حل پر یقین رکھتی ہے تاہم ہماری سیاسی رواداری کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم تصادم نہیں انصاف چاہتے ہیں، انتقام نہیں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ لیکن اپنی قیادت کی توہین، دینی مدارس کی خودمختاری پر حملوں اور سیاسی انتقام کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔









