بلوچستان میں یکم نومبر سےڈاکٹروں کی ہڑتال کا اعلان، ٹیکسز واپس لینے کا مطالبہ

41

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) بلوچستان نے ڈاکٹروں پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی جانب سے عائد کیے گئے مبینہ غیر منصفانہ ٹیکسز کے خلاف یکم نومبر سے صوبے بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں مختلف ڈاکٹر تنظیموں کا مشترکہ اجلاس پی ایم اے بلوچستان کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر زرک محمد شاہی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ہڑتال کے لائحہ عمل اور محکمہ صحت بلوچستان سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن (بی ایم ٹی اے) کے ڈاکٹر خلیل بلوچ، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر ہائی بلوچ، سپریم کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر علی جان سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے پی ایم اے سینٹر کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کی متفقہ طور پر توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام متعلقہ ڈاکٹر تنظیمیں احتجاج میں بھرپور ساتھ دیں گی۔

اجلاس کے مطابق ہڑتال کے دوران سرکاری اسپتالوں میں روزانہ صبح 9 بجے سے 10 بجے تک او پی ڈی سروسز کا علامتی بائیکاٹ کیا جائے گا، جبکہ نجی اسپتالوں میں تمام اختیاری طبی خدمات معطل رہیں گی۔ تاہم، ہڑتال کے دوران ایمرجنسی سروسز بدستور فعال رہیں گی۔

ڈاکٹر تنظیموں نے واضح کیا کہ احتجاج ایف بی آر اور بی آر اے کی جانب سے متنازع ٹیکسز کے مطالبات واپس لینے تک جاری رہے گا۔

اجلاس میں محکمہ صحت بلوچستان کے تمام ڈائریکٹوریٹس کو مزید انتظامی اختیارات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹس (اے سی آرز) تیار کرنے کا اختیار انتظامی افسران سے واپس لے کر متعلقہ ڈائریکٹرز کو منتقل کیا جائے۔

ڈاکٹر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کے بار بار تبادلوں کے باعث ڈاکٹروں کی کارکردگی رپورٹس کی تیاری میں تاخیر اور مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ صحت کے متعلقہ ڈائریکٹرز، جو خود طبی شعبے سے وابستہ ہیں، ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا زیادہ بہتر، منصفانہ اور درست انداز میں جائزہ لے سکتے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو بلا تاخیر تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں