بلوچستان میں بدامنی،بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے،سینیٹر سراج الحق

42

سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی،بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، سرحدوں کی بندش اور شاہراہوں پرکشیدہ صورتحال نے کاروبار، تجارت اور روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے دورہ کوئٹہ کے دوران اجلاس سے خطاب اوروفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے، انہیں محرومیوں اور احساسِ بیگانگی سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات،جرگہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ آئین و قانون کے مطابق حل کیا جائے، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور عوام کو خوف و ہراس سے نجات دلائی جائے۔ بدامنی کے باعث مائیں اپنے بچوں، بچے اپنے والدین اور خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں، اس صورتحال کا خاتمہ ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی تجارت ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، اس لیے پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں کی بندش اور غیر ضروری پابندیوں پر نظرثانی کی جائے۔ مقامی تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے کاروباری افراد کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ عوام باعزت طریقے سے حلال روزی کما سکیں۔ صوبے میں معدنی وسائل، ساحل سمندر اور دیگر قدرتی ذخائر سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کو مناسب حصہ دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور عوامی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر صوبے میں ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں