صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود پولیو کو شکست دینا پوری قوم کی اجتماعی کامیابی ہے، بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اور تمام ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا ایک بہت بڑی پیشرفت ہے، تاہم اس کامیابی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ہوگا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں عالمی یوم انسداد پولیو پر بلوچستان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید پولیو ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سیکریٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر امین اللہ مندوخیل، ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل کے نمائندوں سمیت سیاسی و مذہبی رہنماؤں، صحافیوں اور پولیو ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیو مہم کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے ورکرز اور سیکیورٹی فورسز کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے ورکرز ، علمائے صحافی، قبائلی عمائدین و معتبرین کی حوصلہ افزائی کے لیے ان میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے پولیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز، علماء کرام اور صحافیوں کی مشترکہ محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود پولیو کو شکست دینا پوری قوم کی اجتماعی کامیابی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اور تمام ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا ایک بہت بڑی پیشرفت ہے، تاہم اس کامیابی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنا ہوگا۔ بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ مالی مشکلات کے باعث حکومت کی بنیادی توجہ علاج کے بجائے بیماریوں سے بچاؤ پر ہے اور کم وسائل کے باوجود ہیومن ریسورس کو متحرک کر کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں محکمہ صحت بلوچستان نے درست سمت میں اقدامات کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کی بہتری اور تمام اضلاع کے طبی مراکز میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں جاری ان وسیع اصلاحات کے بعد مریضوں کو علاج کے لیے دوسرے صوبوں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آنے والے دو سالوں میں بلوچستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم ملکی سطح پر مثالی بن جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمان پانیزئی نے پولیو کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت اور ورکرز کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کو ایک بار پھر پولیو فری بنانے پر محکمہ صحت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے صوبے کے لیے انتہائی خوش آئند اور تاریخی دن قرار دیا، اور تاکید کی کہ اس کامیابی کو مستقل برقرار رکھنا ہوگا۔
انہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیو ورکرز اور سیکیورٹی فورسز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ گھر گھر پولیو کے قطرے پلانے والوں کو نشانہ بنانا بدترین ظلم ہے، جبکہ عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے دور رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم وسائل کے باوجود ہیومن ریسورس کو متحرک کر کے بہتر طبی ریلیف دیا جا سکتا ہے، اور علاج کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، نیز انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی محکمہ صحت کے اچھے کاموں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمان پانیزئی نے۔اپنے خطاب میں پولیو شہدائ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر صحت کی مسلسل تعاون کو سراہا اور بلوچستان میں پولیو کے تمام ماحولیاتی نمونے منفی آنے کو ایک بہترین پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، اس لیے پولیو وائرس کی نگرانی، بچوں میں 19 فیصد غذائی کمی کا خاتمہ، اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں نمایاں بہتری جیسے تین اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ اس موذی مرض کا مکمل صفایا کیا جا سکے۔
تقریب سے ڈی جی صحت امین اللہ مندوخیل، ای او سی کوآرڈینیٹر انعام الحق، ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے صوبے کے ماحولیات سے پولیو وائرس کے خاتمے اور نئے کیسز نہ آنے کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے مکمل اور قطعی خاتمے تک تمام تر کوششیں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔









