بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں 14 سالہ ہندو بچی بندیہ کے مبینہ اغوا، جبری مذہب کی تبدیلی اور کم عمری میں نکاح کا معاملہ اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت سے فوری اقدامات اور سندھ حکومت سے رابطے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت سے رابطے کے بعد رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی اشوک کمار نے کہا کہ سبی کے علاقے سے تین روز قبل ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی بچی بندیہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، جس کے بعد اسے سندھ لے جا کر زبردستی نکاح کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 سالہ بچی کی شادی اور مذہب کی تبدیلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
اشوک کمار نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ سندھ حکومت سے فوری رابطہ کرکے بچی کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور سنجے کمار نے اجلاس کو بتایا کہ یاسر نامی شخص مبینہ طور پر نویں جماعت کی 14 سالہ طالبہ بندیہ کو ورغلا کر اغوا کرنے کے بعد سندھ لے گیا، جہاں اس کی مرضی کے خلاف مذہب تبدیل کرکے نکاح کرائے جانے کا الزام ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نکاح سے متعلق پیش کی جانے والی دستاویزات بھی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔
سنجے کمار نے کہا کہ بچی کے اہل خانہ شدید کرب میں مبتلا ہیں اور اس کی والدہ گزشتہ چار روز سے ہوش میں نہیں آئیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بچی کو فوری طور پر بازیاب کراکے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح اسماء جتک کے معاملے پر آواز اٹھائی گئی، اسی طرح 14 سالہ بندیہ کے لیے بھی آواز بلند کی جانی چاہیے تاکہ اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر تمام اقلیتی برادریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ایسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں۔دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ بندیہ کے مبینہ اغوا کے معاملے کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں سندھ حکومت سے رابطہ کیا جائے گا اور رابطے کے بعد حاصل ہونے والی رپورٹ بلوچستان اسمبلی میں جمع کرائی جائے گی۔ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے بچی کی بحفاظت بازیابی اور اس کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔









