پورا پاکستان سن لے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات میں کوئی موازنہ نہیں، ہم جنگ کو اپنا سمجھتے ہیں، کے پی میں سیکیورٹی کے پیسوں سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، سرفراز بگٹی

19

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین بنانے والے اکابرین نے آج کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آرٹیکلز آئین میں شامل کیے تھے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے، جبکہ کے پی میں ایمرجنسی لا اینڈ آرڈر کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکومتی کردار ادا نہ کرنے پر نافذ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف رعایتی پالیسی اپنائی، خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے دیے گئے پیسوں سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو معاونت، قانون سازی اور بیانیے میں تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، مگر بین الاقوامی سطح پر بننے والے ماحول میں وفاق پر حملہ آور ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑ رہی ہے، لیکن وہاں ایسا نہیں کیا جا رہا، اس جماعت پر ایک پٹاخہ تک نہیں پھٹا، جبکہ تمام جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ جماعت دہشت گردوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟ اللہ نہ کرے کہ کوئی حملہ ہو، لیکن ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سوئی میں ایک واقعے کے بعد دور کہیں دستی بم اور کریکر پھوڑے گئے، اگر بلوچستان حکومت اس لڑائی کو اپنی جنگ نہ سمجھے تو پھر بات الگ ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وفاق نے آئین کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، ہم اس عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو، بشیر بلور اور میاں افتخار کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتیں کون کر رہا تھا؟ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ پورا پاکستان سن لے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور حکومتوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں