نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر خالد باقی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مالی دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور شہریوں کی کردار کشی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، موبائل فون، فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے مالی فراڈ کرنے والے بیشتر گینگز کا تعلق جنوبی پنجاب اور کچے کے علاقوں سے ہیں اس وقت سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے پاس تقریبا 2 ہزار انکوائریز زیرِ التوا ہیں جن پر کارروائی جاری ہے جبکہ 158مقدمات میں نامزد ملزمان میں سے کسی کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں چیمبر کے عہدیداران اور ممبران کے ساتھ منعقدہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر احمد گل کاکڑ، سینئر نائب صدر مرزا خان خلجی، نائب صدر جنگیان دشتی اور دیگر عہدیداران و ممبران بھی موجود تھے۔چیمبر کے صدر احمد گل کاکڑ، سینئر نائب صدر مرزا خان خلجی، نائب صدر جنگیان دشتی اور دیگر شرکا نے کہا کہ آن لائن بینکنگ، ایزی پیسہ، جاز کیش اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کے باعث تاجر برادری کے افراد کروڑوں روپے کے مالی فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جعلی فیس بک اکاؤنٹس، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے، ان کی کردار کشی کرنے اور انہیں مالی نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں،بے بنیاد الزامات اور نفرت انگیز مواد بھی پھیلایا جاتا ہے جس سے نہ صرف شہریوں بلکہ کاروباری افراد کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے موثر اور فوری اقدامات کریں۔چیمبر عہدیداران نے تجویز پیش کی کہ ایوان صنعت و تجارت کے نمائندوں، ایف آئی اے اور سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ مالی فراڈ، بلیک میلنگ، جعلی اکانٹس اور دیگر سائبر جرائم کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر خالد باقی کا کہنا تھا کہ مالی فراڈ صرف بزنس کمیونٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کے تقریبا ہر طبقے کے افراد اس سے متاثر ہورہے ہیں تاہم کاروباری افراد کو بھی مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے جن میں مالی فراڈ سرفہرست ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے تاجر اور شہری مالی فراڈ کا شکار ہونے کے باوجود اس کی باقاعدہ رپورٹ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس کے دورے اور آگاہی سیشن کا بنیادی مقصد بزنس کمیونٹی کے مسائل، تجربات اور تجاویز سے آگاہی حاصل کرنا ہے تاکہ سائبر جرائم کے سدباب کے لیے موثر حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نے شہریوں کو خبردار کیا کہ واٹس ایپ یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے پارسل آنے کے نام پر موصول ہونے والا تصدیقی کوڈ یا او ٹی پی کسی شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں کیونکہ فراڈ کرنے والے عناصر مختلف حربوں کے ذریعے شہریوں سے حساس معلومات حاصل کرکے ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی شہری کی کردار کشی، بلیک میلنگ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا اس وقت شتر بے مہار بنتا جارہا ہے تاہم سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا کام ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دلوانا ہے۔خالد باقی نے بتایا کہ 158مقدمات میں نامزد ملزمان میں سے کسی ایک کا بھی تعلق بلوچستان سے نہیں ہے جبکہ مالی فراڈ میں استعمال ہونے والی فرنچائزز کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی فراڈ میں ملوث بیشتر گینگز کا تعلق کچے کے علاقوں اور جنوبی پنجاب سے ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے پاس اس وقت تقریبا 2ہزار انکوائریز زیرِ التوا ہیں، جن پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔
انہوں نے چیمبر کی جانب سے ایف آئی اے، سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی اور چیمبر نمائندگان پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون سے مالی فراڈ اور دیگر سائبر جرائم کے خلاف کارروائی مزید موثر بنائی جاسکتی ہے۔
سیشن کے دوران تاجر برادری نے سائبر فراڈ، جعلی سوشل میڈیا اکانٹس، بلیک میلنگ، آن لائن بینکنگ فراڈ اور ڈیجیٹل ذرائع سے ہونے والے دیگر جرائم سے متعلق اپنے مسائل اور تجاویز بھی پیش کیں، جبکہ متعلقہ ادارے اور چیمبر حکام نے مستقبل میں باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا۔آ خر میں مہمان کو یاد گاری شلیڈ پیش کی گئی۔









