بلوچستان میں صحت کے نظام کو شواہد پر مبنی بنانے کیلئے آپریشنل ریسرچ کو باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا، سیکرٹری صحت

19

صوبائی وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے بلوچستان میں صحت کے نظام کو مزید موثر، مضبوط اور شواہد پر مبنی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کی نشاندہی، ان کے سائنسی تجزیے اور موثر حل کیلئے آپریشنل ریسرچ کو صوبائی نظامِ صحت کا باقاعدہ حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں سے صحت عامہ کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور دستیاب وسائل کے مثر استعمال میں مدد ملے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں Structured Operational Research and Training Initiative (SORT-IT) کے تحت منعقد ہونے والے پہلے تاریخی آپریشنل ریسرچ کورس 2026-27 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیکرٹری صحت نے SORT-IT کے تحت صوبے میں پہلی مرتبہ آپریشنل ریسرچ کورس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور متنوع جغرافیائی حالات رکھنے والے صوبے میں صحت کے مسائل کے مثر حل کیلئے مقامی سطح پر تحقیق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ بندی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے آپریشنل ریسرچ کے فروغ کیلئے اٹھایا گیا یہ اقدام صحت کے شعبے میں پائیدار اور مثبت تبدیلی کیلئے معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ثبوت پر مبنی فیصلہ سازی (Evidence-Based Decision Making) جدید نظامِ صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپریشنل ریسرچ کے ذریعے صحت کے شعبے میں موجود عملی مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے قابلِ عمل اور مثر حل تلاش کیے جا سکتے ہیں، جس سے صحت کی سہولیات، خدمات کی فراہمی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سیکرٹری صحت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آپریشنل ریسرچ کے نتائج کو بلوچستان ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت صوبائی صحت کی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ تحقیق کو عملی پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور صحت کی خدمات کی بہتری کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے تربیت، رہنمائی اور ادارہ جاتی معاونت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

محکمہ صحت بلوچستان کی SORT-IT ٹیم نے اس تربیتی پروگرام میں بین الاقوامی سطح کے ماہرین اور سہولت کاروں کو مدعو کیا ہے، جن میں ڈاکٹر رونی زکریا، ڈاکٹر راضیہ فاطمہ، ڈاکٹر پرتھو تھیکر، ڈاکٹر شیراز خان، مریم غلام ہدہ اور TDR Lead ڈاکٹر مارکس لاسرڈا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قومی سطح کے مینٹرز، منتظمین اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحت کے شعبے کے شرکا بھی کورس میں شریک ہیں۔

کورس کے پہلے روز شرکا کو آپریشنل ریسرچ کے بنیادی تصورات، تحقیق کے طریقہ کار، مسئلے کی نشاندہی، تحقیقی سوالات کی تشکیل، شواہد کے حصول، اعداد و شمار کے تجزیے اور تحقیق کے نتائج کو صحت کے نظام کی بہتری کیلئے استعمال کرنے سمیت مختلف اہم موضوعات پر آگاہی اور عملی تربیت فراہم کی گئی۔تربیتی سیشنز کے دوران شرکا کو اس امر کی بھی رہنمائی فراہم کی گئی کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع اور اداروں میں صحت کے شعبے کو درپیش عملی مسائل کو تحقیقی موضوعات میں تبدیل کرتے ہوئے ان کے شواہد پر مبنی حل تلاش کریں۔

ماہرین نے شرکا کو تحقیق کے مختلف مراحل، ڈیٹا کے موثر استعمال اور تحقیقی نتائج کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات سے منسلک کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ آپریشنل ریسرچ صرف تحقیقی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے صحت کے نظام میں موجود کمزوریوں اور خلا کی نشاندہی کرکے ایسے قابلِ عمل حل تجویز کیے جا سکتے ہیں جو محدود وسائل میں بھی عوام کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں۔

شرکا نے SORT-IT کورس کے انعقاد کو بلوچستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق اور پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور مہارتوں کو اپنے متعلقہ اداروں اور اضلاع میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔تربیتی پروگرام کے دوران بین الاقوامی و قومی ماہرین کی جانب سے شرکا کو مسلسل رہنمائی فراہم کی جائے گی، جبکہ کورس کے ذریعے بلوچستان میں آپریشنل ریسرچ کے ایک مثر نیٹ ورک کے قیام اور مستقبل میں صحت کے شعبے سے متعلق تحقیق کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دینے کیلئے بھی بنیاد فراہم ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں