ایمان مزاری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار قابل افسوس ہے، علی احمد کرد

20

آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد اور راحب بلیدی نے ایک بیان میں ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کے رہائی کے فوری طور پر دوبارہ جیل ہی کے گیٹ پر گرفتاری افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت ہے اور حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ عمل سے ملک اور دنیا بھر میں بڑی جگ ہنسائی کا باعث بنا ہے۔

اس اقدام سے حکومت کے سے بڑی بے شرمی کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر معزز جحج جسٹس نعیم افغان نے عدالت میں بیٹھے ہوئے ایڈیشل اٹارنی جنرل کی موجودگی میں جب فریقین کے وکلا سے پوچھا گیا کیا ایمان مزاری کے خلاف کوئی اور چھپی ہوئی ایف آئی آر تو موجود نہیں مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھا اور اس کے اس عمل پر سپریم کورٹ کے قوائد و ضوابط کے مطابق توہین عدالت کی کاروائی کی جاسکتی ہے۔

ویسے بھی حکومت وقت اور اسٹیبلشمنٹ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،ایمان مزاری اور ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے عورت ذات سیاسی رہنماں کے خلاف اس طرح کے اقدامات قابل مذمت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں