نوشکی، مستونگ سے عوام کی جبری بے دخلی نوآبادیاتی سوچ کا تسلسل ہے، لشکری رئیسانی

13

بلوچستان کے سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے نوشکی اور مستونگ سے عوام کو مبینہ طور پر جبری طور پر بے دخل کرنے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نوآبادیاتی طرزِ عمل کا تسلسل قرار دیا ہے۔

نوشکی پریس کلب کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ ہزاروں سال سے اپنی سرزمین پر آباد لوگوں کو وہاں سے نکلنے کا حکم دینا حکمرانوں کی آمرانہ اور شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

نوشکی اور مستونگ کے عوام کو اپنی ہی سرزمین سے جانے کا حکم دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہتے اور پرامن شہری تمام تر ناانصافیوں، ظلم و جبر، مشکلات اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محرومی کے باوجود اپنی علاقائی و قبائلی روایات، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر عوام کا یہ طرزِ زندگی بھی حکمرانوں کو ناگوار گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر آواز بلند کرنے پر مجھے خاموش کرنے اور دباؤ میں لانے کے لیے میرے گھر مہرگڑھ پر ڈرون حملے کے ذریعے خاموش رہنے کا پیغام دیا گیا، تاہم حکمرانوں کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ ایسے منفی حربوں کے ذریعے ہمیں خاموش کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ہماری پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو آگ اور خون کی جنگ میں دھکیلنے والے حکمران اور ان کے سہولت کار اپنے مفادات اور منافع خوری کے لیے پرامن اور محکوم عوام کو ایندھن بنا رہے ہیں۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی نے یقین دلایا کہ وہ نوشکی کے عوام اور آل پارٹیز کے ساتھ کھڑے ہیں اور نوشکی کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون اور آواز بلند کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں