نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی پنجگور، تربت پھلین بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے بجائے موجودہ تاریخی قومی وحدتوں کو مزید بااختیار بنانے کی حمایت کرتی ہے۔
ملکی سیاسی و معاشی استحکام اور قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ ملک کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق اور اختیارات دیے جائیں۔پھلین بلوچ نے آج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پنجگور کی دعوت پر بار کا دورہ کیا اور وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو جو مالی اور سیاسی خودمختاری دی گئی تھی، اس پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر صرف تقریبا 10 فیصد عمل درآمد کیا گیا ہے، جس کے باعث صوبوں میں احساسِ محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام، قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے، نہ کہ قومی وحدتوں کو مزید تقسیم کرکے سیاسی و معاشی مشکلات میں اضافہ کرنے کی۔
وقت اور قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بجائے 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور ملک کو سیاسی استحکام، معاشی خوشحالی اور مضبوط وفاق کی طرف لے جایا جائے۔پھلین بلوچ نے موجودہ نظام میں کرپشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرپشن عروج پر ہے، جبکہ انصاف ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رول آف لا کا فقدان ہے اور عوام کو عدالتوں سے بروقت اور سستا انصاف نہیں مل رہا، کیونکہ انصاف انتہائی مہنگا ہو چکا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ نئے صوبوں کے قیام سے اس بات کی کیا ضمانت ملے گی کہ عوام کو انصاف فراہم ہوگا، کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور ملک میں رول آف لا قائم ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی و صوبائی ڈھانچے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، قوموں کی برابری کو تسلیم کرنے، صوبوں کو ان کے آئینی اختیارات دینے اور عوام کو سستا و فوری انصاف فراہم کرنے کے ذریعے ملک کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط وفاق کی بنیاد بااختیار صوبے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، قوموں کے حقوق کا احترام اور آئین پر مکمل عمل درآمد ہے۔









