کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں اضافہ، خود ساختہ مہنگائی سے عوام پریشان

12

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ، 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 920 روپے کا ہوگیا۔پرائس کنٹرول کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کی گراں فروشی اور آئے روز آٹے سمیت روٹی، کھانے پینے کی چیزوں میں بے تحاشا اضافے پر خاموشی باعث تشویش ہے۔

عوامی حلقوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ بڑھتی ہوئی خود ساختہ مہنگائی، گراں فروشی کا سدباب کرتے ہوئے گراں فروشوں کے خلاف موثر کارروائی کرکے شہریوں کو ان سے نجات دلائی جائے۔

کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں مزید 70 روپے کا اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد قیمت 2 ہزار 850 روپے سے بڑھ کر 2 ہزار 920 روپے تک پہنچ گئی۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ فلور ملز مالکان نے گندم کی دستیابی میں مشکلات اور قیمتوں میں اضافے کو آٹے کی قیمت بڑھنے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں گندم کی دستیابی متاثر ہونے کے ساتھ اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب آٹے کی قیمت میں اضافے پر شہریوں اور صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پہلے ہی گھریلو بجٹ شدید متاثر کر رکھا ہے، ایسے میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ عوام کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد آٹے کی قیمت سابقہ ادوار میں ان مہینوں میں 1200 سے 1500 روپے تک ہوتی لیکن اس وقت 2950 روپے میں 20 کلو آٹے کا تھیلا مل رہا پرائس کنٹرول کمیٹی اور انتظامیہ کی خاموشی باعث تشویش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں