روس نے ایران کو امریکی جنگی جہازوں کیخلاف سپرسونک میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی؛ رپورٹ

32

روس نے ایران کو امریکی جنگی جہازوں اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے سپرسونک کروز میزائل تیار کرنے میں خفیہ مدد فراہم کی ہے۔

اس بات کا انکشاف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیق میں ہوا ہے۔ یہ خفیہ منصوبہ C430L کے نام سے 2023 میں شروع کیا گیا تھا اور امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران بھی اس پر کام جاری رہا۔

اس منصوبے میں روس کے تجربہ کار میزائل ماہرین نے ایران کو ایسی ریم جیٹ انجن ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد دی جو کروز میزائل کو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے اڑنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

روسی ماہرین نے ایران کو کیا ٹیکنالوجی دی؟

فنانشل ٹائمز کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایران کو ریم جیٹ پروپلشن سسٹم تیار کرنے میں مدد دینا ہے۔ جو میزائل کو فضا میں سبک رفتاری سے پرواز کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی مدد سے کروز میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار برقرار رکھ سکتا ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا استعمال بالخصوص اینٹی شپ میزائلوں اور زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں میں کیا جا سکتا ہے۔

اس نوعیت کے میزائلوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ نسبتاً کم بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں، جس سے دشمن کے ریڈار کو انہیں بروقت تلاش کرنے اور دفاعی نظام کو ردعمل دینے کے لیے کم وقت ملتا ہے۔

امریکی جنگی جہازوں کے لیے نیا خطرہ

سابق امریکی سی آئی اے ملٹری تجزیہ کار جم لیمسن کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے حصول سے ایران کو ایک ایسا نیا تزویراتی ہتھیار مل سکتا ہے جو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں