بلوچستان کے طلبہ پر دیگر صوبوں میں عائد تعلیمی چارجز ختم کئے جائیں، بساک

23

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اعلیٰ تعلیمی سہولیات کے فقدان کے باعث زیادہ تر طلبہ بہتر تعلیم کے حصول کی غرض سے دیگر صوبوں (جن میں اسلام آباد، پنجاب اور سندھ شامل ہیں) کا رخ کرتے ہیں،

تاکہ وہاں معیاری تعلیم اور بہتر سہولیات حاصل کر سکیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان میں جامعات کی کمی اور بہتر تعلیمی نظام کے فقدان کی وجہ سے دیگر صوبے بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ رعایت اور سہولت دینے کے بجائے انتہائی غیر منصفانہ سلوک کر رہے ہیں۔ یہ بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہے، جس پر ہم شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کی انتظامیہ کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ سے کیپیٹیشن چارجز (فی فرد فیس) کے نام پر اضافی فیس وصول کرنا اور ہاسٹل سمیت دیگر فیسوں میں اضافہ کرنا طلبہ پر ظلم کے مترادف ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ جہاں ایک جانب طلبہ سے ہر سال ہزاروں روپے اضافی فیس وصول کرتی ہے، وہیں دوسری جانب طلبہ کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے۔ ان میں ہاسٹل کی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے۔ طلبہ کے لیے ہاسٹلز میں نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی صاف ستھرے کمرے میسر ہیں، جبکہ ہاسٹل میس کی صورتِ حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔ مزید برآں، گرلز ہاسٹل میں پانی کی قلت سمیت بنیادی ضروریات کے لیے کوئی کیفے یا کینٹین تک موجود نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انتظامیہ ایک طرف تو چھوٹے چھوٹے معاملات پر طلبہ کو شوکاز نوٹس کے نام پر ہراساں کرتی ہے، تو دوسری طرف تعلیمی سہولت کے لیے قائم سینٹرل لائبریری، جو ایک طویل عرصے سے غیر فعال ہے، کو فعال کرنے میں ناکام ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے یہ تمام اقدامات طلبہ دشمن پالیسی کے زمرے میں آتے ہیں، جو بظاہر قصداً اختیار کی جا رہی ہے تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے معیاری تعلیم کی تلاش میں آنے والے طلبہ کو ہراساں کر کے تعلیم سے محروم کیا جائے۔

ہم بحیثیتِ طلبہ تنظیم اس صورتِ حال کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، بلکہ حکومتِ وقت اور تعلیمی حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان طلبہ دشمن پالیسیوں کا فوری طور پر سدِباب کریں۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان پالیسیوں پر نظرِثانی کرے، وگرنہ ہم ان ناانصافیوں کے خلاف طلبہ کی آواز بن کر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

بلوچستان کے طلبہ خود کو کہیں بھی تنہا نہ سمجھیں، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچستان کے طلبہ، خواہ وہ جہاں بھی زیرِ تعلیم ہوں، اْن کے ساتھ ہر وقت کھڑی رہے گی اور کسی بھی ناانصافی کے خلاف اْن کی بھرپور ساتھ دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں