بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کرکے لاپتہ افراد بازیاب کئے جائیں ،بی این پی

29

جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ آئین قانون اور جمہوری اصولوں پر کھلا حملہ ہے۔

بلوچستان میں کسی کی عمر، جنس یا حیثیت بھی اسے اس جبر سے محفوظ نہیں رکھتی۔ نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک، طلبہ سے سیاسی کارکنوں تک، خواتین سے بچوں تک، خوف اور جبر کا یہ سلسلہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

کسی انسان کو اٹھا کر لاپتہ کردینا اور خاندان کو برسوں اس کی خبر سے محروم رکھنا ریاستی اختیار نہیں بلکہ یہ قانون شکنی ہے۔بی این پی سمجھتی ہے کہ طاقت اور جبری گمشدگیوں کے ذریعے سیاسی مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر وقتی طور پر آواز کو دبا سکتا ہے مگر عوام کے حقِ زندگی، حقِ سیاسی اظہار کو ختم نہیں کرسکتا۔ہم ہر وقت ان ماں، بہنوں، بیٹیوں اور بچوں کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں۔

ان کے آنسو اور احتجاج کسی رعایت کی بھیک نہیں بلکہ انصاف اور آئینی حق کا مطالبہ ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے یا عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور اس عمل میں ملوث عناصر کو قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔بی این پی واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کو خوف کے ذریعے خاموش کرانے کی ہر کوشش کے خلاف سیاسی اور جمہوری مزاحمت جاری رہے گی۔

ہم جبر کے سامنے نہ جھکے ہیں اور نہ ہی جھکیں گے۔ایک بھی جبری گمشدگی قابل قبول نہیں۔ ایک بھی ماں کا انتظار قابل قبول نہیں۔ بلوچستان میں ریاستی جبر کا یہ باب اب بند ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں