پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے اور براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے مزید 60 روزہ ٹائم لائن تجویز دی ہے۔
ذرائع نے انادولو کو بتایا کہ پاکستان کی تجویز کردہ نئی مدت کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات فوری طور پر بحال کیے جائیں گے۔
جن کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں کمی کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی نئی کوشش کا مقصد آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرانا ہے۔
تاہم امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے اس نئی 60 روزہ تجویز کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پہلا 60 روزہ معاہدہ ختم
اسلام آباد کی نئی سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پہلے سے طے شدہ 60 روزہ مدت 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
یہ مدت 17 جون سے شروع ہوئی تھی تاہم اس دوران دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا اور ایران نے مبینہ طور پر نئی جنگی کارروائی شروع نہ کرنے پر غیر اعلانیہ اتفاق برقرار رکھا۔









