پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر میں مکمل، زیرِ تکمیل اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG on Gwadar) کے نویں اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت سیکرٹری پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد طاہر نور نے کی، جس میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویڑنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داؤد کلمتی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کی پیشرفت، جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،
تاکہ آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے نویں اجلاس میں ان منصوبوں کے حوالے سے اہم فیصلے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان 2017-2050، اس پر عملدرآمد کی پیشرفت اور گوادر کی مستقبل کی شہری و معاشی ترقی کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔
گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے اہم منصوبوں میں شامل ہے اور اسے گوادر کی آئندہ شہری ترقی، لینڈ یوز، مائیکرو پلاننگ، بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بنیادی گائیڈ لائنز ڈاکومنٹس کی حیثیت حاصل ہے۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال گوادر کی پیشرفت اور موجودہ آپریشنل صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال زیر انتظام انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک گوادر مکران اور بلوچستان کے عوام کے لیے چین کی جانب سے ایک اہم اور قابلِ قدر تحفہ ہے، جو صحت کے شعبے میں مقامی آبادی کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے تجویز پیش کی کہ سی پیک کے آئندہ منصوبوں میں پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کی توسیع کو شامل کیا جائے، جس کے تحت ہسپتال کی استعداد کو 300 بستروں تک بڑھانے کے ساتھ میڈیکل کالج اور نرسنگ کالج کے قیام پر بھی غور کیا جائے۔ ان تجاویز کا مقصد گوادر سمیت بلوچستان کے عوام کو طبی تعلیم اور جدید صحت کی سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے گوادر کے ویسٹ بے/پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کے قیام کو بھی سی پیک کے آئندہ منصوبوں میں شامل کرنے کی تجویز دی۔
اس منصوبے کا مقصد گوادر کی ماہی گیری کی صنعت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا، مقامی ماہی گیروں کے لیے بہتر کاروباری مواقع پیدا کرنا، کشتی سازی کو فروغ دینا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں گوادر کے دیگر اہم سی پیک منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جن میں گوادر پورٹ اور فری زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پانی کی فراہمی اور ڈیسینیشن پلانٹس سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داؤد کلمتی نے گوادر پورٹ کی موجودہ آپریشنل صورتحال، گوادر فری زون فیز-I اور فیز-II، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور دیگر متعلقہ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ گوادر فری زون کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں وسیع رقبے پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی عمل کا بنیادی مقصد نہ صرف بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے بلکہ گوادر شہر کو جدید شہری سہولیات، صحت، تعلیم، پانی، روزگار اور معاشی مواقع سے آراستہ کرنا بھی ہے۔
سی پیک کے تحت گوادر پورٹ سے الائیڈ مستقبل کی ترجیحات میں بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ اور انڈسٹری کیلئے پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے لیے منصوبوں سے متعلق تازہ ترین پیشرفت، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔









