سیٹلرز کو وفاق کیطرف د یکھنے کی بجا ئے بلوچستان کی مٹی کا حق اداکر نا چا یئے،لشکری رئیسانی

25

سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قدیم سے آباد سیٹلرز وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اس سرزمین کی اکثریت میں شامل ہوکر بلوچستان کے معاملات کو بہتر بنانے ،سرزمین کے قومی حقوق میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مٹی کا حق ادا کریں۔

قومی اتفاق اور یکجہتی سے ہی ہم بلوچستان کے قومی، سیاسی ، سماجی حقوق حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہ بات انہوںنے سراوان ہاس میں رابطہ مہم کے تحت کوئٹہ کے شہریوں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، وفد میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک تھیںجنہوںنے رابطہ مہم کی بھر پور تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ قومی وطن کو درپیش سیاسی، سماجی اور انتظامی بحرانوں سے یہاں آباد اقوام اور برادریاں قومی یکجہتی اور حقیقی سیاسی عمل کے ذریعے ہی نکل سکتی ہیں،

انہوںنے کہاکہ سیاسی عمل کو سہولت کاروں، ٹھیکیداروں نے منصوبے کے تحت آلودہ کیا اور غیر جمہوری لوگ نمائندگی کا دعوی کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ریاست اور بلوچستان کے لوگوں میں عدم اعتماد ہے اور جعلی منتخب نمائندوںنے بلوچستان کی پسماندگی میں اپناکردار ادا کیا ہے ،انہوںنے کہاکہ بلوچستان کودہائیوں سے اس کے قومی حقوق اور سیاسی جمہوری عمل سے محروم رکھا گیا ہے اس محرومی کے خاتمہ کیلئے بلوچستان میں قدیم سے آباد سیٹلرز وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اس سرزمین کی اکثریت میں شامل ہوکر بلوچستان کے معاملات کو بہتر بنانے ،

سرزمین کے قومی حقوق میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مٹی کا حق ادا کریں،انہوںنے کہاکہ ہمارے وطن میں آج ایک بہت بڑاسیاسی و انتظامی بحران ہے جس کے نتیجے میں بلوچ، پشتون اقوام اور برادریاں تکلیف اور مصائب سے گزررہے ہیںان تکالیف اور مصائب کو ایک بہت بڑے قومی اتفاق، یکجہتی اور سیاسی عمل سے ختم کیا جاسکتا ہے اور اس قومی اتفاق اور یکجہتی سے ہی ہم بلوچستان کے قومی، سیاسی ، سماجی حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں