امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد حکومتی لیوی کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا۔ کراچی کے گورنر ہاؤس سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاج سے اظہار یکجہتی کے لیے سندھ کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی سندھ کے تحت حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، جیکب آباد، بدین سمیت صوبے کے مختلف شہروں اور علاقوں میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے، جہاں کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ احتجاجی پروگراموں میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کے دھرنے سے خطاب کو براہ راست اسکرین پر دکھانے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
اتوار کو بدین میں پریس کلب اور جیکب آباد میں قائداعظم روڈ پر احتجاجی کیمپ لگائے گئے، جن میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر عوام میں ہینڈبلز بھی تقسیم کیے گئے جبکہ ضلعی و مقامی قائدین نے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔بدین اور جیکب آباد کے احتجاجی کیمپوں سے سید علی مردان شاہ، حاجی دیدار علی لاشاری، مولانا عبدالکریم بلیدی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے قرضوں، سود اور شاہانہ اخراجات کے ذریعے ملک کو کنگال اور عوام کو بدحال کردیا ہے۔
عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی عائد کرکے مہنگائی میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔
اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے اور پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی تو جماعت اسلامی عوامی حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ پٹرول پر عائد لیوی درحقیقت ’’بھتہ ٹیکس‘‘ ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سمیت ہر شعبہ متاثر اور مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں نے معیشت کو تباہ اور عام آدمی کا زندہ رہنا مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے مسلسل ٹیکس وصول کرنے کے بجائے حکمران اشرافیہ کی مراعات، غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ طرز زندگی ختم کیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا واضح اعلان ہے کہ پٹرولیم لیوی کی واپسی تک احتجاجی دھرنے، مارچ اور عوامی مزاحمت جاری رہے گی۔کاشف سعید شیخ نے کہا کہ مرکزی امیر کی ہدایت کے مطابق لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے بعد اب سندھ کے حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور جیکب آباد سمیت چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات تک احتجاجی دھرنوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سندھ کے عوام کو مسلسل آگاہ کرے گی کہ پٹرولیم لیوی کس طرح مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے اور اس حکومتی ٹیکس کا بوجھ براہ راست عام شہری برداشت کررہا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔کاشف سعید شیخ نے مطالبہ کیا کہ عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمران اشرافیہ کی مراعات، عیاشیوں اور غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کیا جائے اور پٹرولیم لیوی واپس لے کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔









