اسرائیلی پولیس نے پہلی بار یہودی عبادت گزاروں کو مکمل یہودی دعائیہ کتابیں (سِدور) مسجد اقصیٰ میں لے جانے اور ان کے ذریعے وہاں کھلے عام دعا کرنے کی اجازت دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہودی عبادت گزاروں کو اتوار 16 اگست کو مسجد اقصیٰ کے احاطے جسے یہودی ٹمپل ماؤنٹ کہتے ہیں میں سِدور نامی مکمل دعائیہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی گئی۔
بعض افراد نے پولیس کی موجودگی میں انھی عدائیہ کتابوں سے پڑھ کر بآواز بلند عبادات اور دعائیں بھی کیں۔ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے یہودی عبادت کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق پولیس کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کا یہ اقدام 1967 سے چلے آرہے انتظامی بندوبست کے لیے ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
اس انتظام کے تحت مسلمان اس مقام پر عبادت کرتے ہیں جبکہ غیر مسلم، جن میں یہودی بھی شامل ہیں، وہاں صرف محدود اوقات میں بطور زائر داخل ہوسکتے ہیں اور انہیں عبادت کی اجازت نہیں ہوتی۔
خیال رہے کہ کسی نئے قانون کے ذریعے مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کو باضابطہ قانونی حق قرار دینے کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم اسرائیلی پولیس کی عملی پالیسی میں نمایاں نرمی ضرور سامنے آئی ہے۔
اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی پولیس نے پہلی مرتبہ یہودیوں کو دعائیہ تحریروں کے پرنٹ شدہ صفحات اندر لے جانے کی اجازت دی تھی جسے اس وقت بھی طویل عرصے سے رائج پابندی میں تبدیلی قرار دیا گیا تھا۔
تازہ اقدام کو اس لیے زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے کہ مکمل دعائیہ کتابیں لے جانے اور ان سے کھلے عام عبادت کرنے کی اجازت پہلے سے کہیں آگے کا قدم ہے۔ دی نیو عرب نے اسے اسرائیلی پولیس اور حکومت کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی کھلی اجازت دینے کی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے









