سیاسی کاؤنٹ ڈاؤن

16

8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کے قیام سے ہی، وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے خاتمے کا بیانیہ مسلسل ذرائع ابلاغ کی زینت بنا ہوا ہے۔ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز، سوشل میڈیا بالخصوص یوٹیوب چینلز اور سیاسی مبصرین کی جانب سے حکومت کے خاتمے کی متواتر پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں، جو تا حال غیر حقیقت پسندانہ ہی ثابت ہوئی ہیں۔

ڈیڈ لائنز کی تبدیلی اور نئے بیانیے سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی تبدیلی سے متعلق پیش گوئیوں کا دائرہ کار کبھی 90 دن، کبھی چھ ماہ اور پھر نئی تاریخوں میں بدلتا رہا۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب جائزوں، سالانہ وفاقی بجٹ کی منظوری اور معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے بعد جب بھی پرانی ڈیڈ لائن ختم ہوتی، ایک نیا سیاسی بحران اور نئی تاریخ سامنے لائی جاتی۔ حال ہی میں ایک ٹی وی اینکر و یوٹیوبر کے مبینہ دعوے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو نئے صوبے بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔ تاہم آئینی ماہرین کے مطابق کسی بھی نئے صوبے کی تشکیل کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سے منظوری لازم ہوتی ہے، جو موجودہ سیاسی عددی صورتحال اور بین الصوبائی اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں عملاً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

اتحادی اختلافات اور سیاسی متبادل کے دعوے اس سلسلے میں بعض سینیٹرز، سینئر صحافیوں اور مبصرین کی جانب سے ماضی میں “سیاسی زلزلوں”، وزیر خزانہ کی برطرفی اور وزیراعظم کے متبادل (“ونڈر بوائے”) لانے کے دعوے کیے گئے جو وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پر کی جانے والی تنقید کو بھی بعض حلقوں کی جانب سے کاؤنٹ ڈاؤن کے آغاز سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی جماعتوں کا باہمی تناؤ اور انتخابی نعرے بازی فوری طور پر وفاقی حکومت کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی، کیونکہ کوئی بھی فریق فی الوقت اتحاد ختم کرنے کا متمنی دکھائی نہیں دیتا۔

حقیقت بمقابلہ قیاس آرائی یہ تمام پیش گوئیاں اور ڈیڈ لائنز عوامی ریکارڈ اور ذرائع ابلاغ کا حصہ رہی ہیں۔ اگرچہ شہباز شریف حکومت کو سنگین معاشی، سیاسی اور اتحادی چیلنجز درپیش ہیں، مگر مسلسل ناکام ہوتی ڈیڈ لائنز کے بعد نیا کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دینا پاکستان کی سیاسی بحث کے ایک منفرد رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ سوال یہ قائم رہتا ہے کہ آیا یہ ڈیڈ لائنز کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں یا محض مسلسل ری سیٹ ہونے والا ایک سیاسی کیلنڈر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں