ایران جنگ میں امریکا کے چوتھائی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز ختم ہوگئے؛ رپورٹ

35

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا کو اپنے جدید ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز ضائع ہوچکے ہیں جو امریکی بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی بنتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے متعدد ڈرونز آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی کارروائیوں کا نشانہ بنے جبکہ کچھ ڈرونز اس وقت گر کر تباہ ہوئے جب امریکی آپریٹرز کا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

1.3 ارب ڈالر کا نقصان

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 ڈرونز کے نقصان کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بنتی ہے جس کا بالواسطہ بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑے گا۔

خیال رہے کہ ایم کیو 9 ریپر بنیادی طور پر نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور درست اہداف پر حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں جدید سینسرز اور ہتھیار نصب کیے جاسکتے ہیں۔

یہ ڈرون طویل وقت تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم نسبتاً کم رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے شدید فضائی دفاع کے ماحول میں اسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

ایم کیو 9 ریپر امریکی فوج کے اہم نگرانی اور حملہ آور پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے جنگی علاقوں میں مشتبہ اہداف کی نگرانی، معلومات جمع کرنے اور ضرورت پڑنے پر میزائل حملے کیے جاتے ہیں۔

آبنائے ہرمز جیسے محدود اور حساس علاقے میں ان ڈرونز کا استعمال امریکی فوج کے لیے سمندری راستوں، ایرانی عسکری سرگرمیوں اور جہاز رانی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران اتنی بڑی تعداد میں ریپر ڈرونز کا نقصان امریکی فوج کے لیے آپریشنل دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں