امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی اتوار 16 اگست کو ختم ہورہی ہے جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان فریقین کے درمیان سیزفائر میں توسیع کے لیے کوشاں ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ثالثوں کو مزید وقت درکار ہے‘دوسری جانب ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔
واشنگٹن کو معاہدے پر واپس آنا اور اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرنا ہوگی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ جارحیت شروع کی تو توانائی کی ترسیلی لائنیں، بجلی گھر اور عالمی انٹرنیٹ سے منسلک انفراسٹرکچر بھی خطرے میں ہوگا جبکہ ترک صدر طیب اردوغان نے امید ظاہر کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدےمیں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے پاناما کے پرچم بردار کارگو جہاز کو امریکی ہیلی کاپٹر نے میزائل مارکر ناکارہ بنادیا۔
صدر پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں جاپانی وزیراعظم تاکائیچی نے مطالبہ کیا کہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے۔









