کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آئے روز موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامناہے، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان

26

مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آئے روز موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا، جبکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے باعث تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کریں۔

یہ بات چئرمین یاسین آغا، قائم مقام صدر نعمان کاکڑ، جنرل سیکرٹری حاجی محمد یوسف، ترجمان کاشف حیدری، سیف الدین نثار، شکور لالا، صدیق یوسفزئی، احسان الدین خلجی، صادق آزاد، قسیم آغا، کلیم اللہ داوی، سید نسیم آغا، حاجی عثمان بادیزئی، غوث اللہ اچکزئی، شاہ جان کاکڑ، حبیب اللہ داوی، عطاء جان اچکزئی، حاجی عالم خان بڑیچ، منان ہاشمی، قیصر کاکڑ، ارباب جہانگیر، حاجی عبدالمالک ترین، گلزار خان خلجی، زمان ترین، سلطان خلجی و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ دورِ جدید میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک رابطے، کاروبار اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں اور دنیا بھر میں کاروباری سرگرمیوں سمیت بینکاری، آن لائن ادائیگیوں، تجارت، تعلیم اور روزگار کے مختلف شعبے انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، مگر بلوچستان میں آئے روز مختلف وجوہات کی بنا پر موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سے تاجر برادری، کاروباری افراد اور انٹرنیٹ سے منسلک دیگر طبقات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث دکانداروں اور تاجروں کے آن لائن کاروبار، آرڈرز، ڈیجیٹل ادائیگیاں، بینکنگ سروسز اور دیگر کاروباری معاملات متاثر ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوتی ہیں بلکہ تاجروں کو مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں متعدد کاروباری ادارے اور افراد اپنے کاروبار کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں سروس کی اچانک بندش سے ان کے کاروباری روابط منقطع ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنے صارفین اور کاروباری شراکت داروں سے رابطے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آن لائن کلاسز لینے والے طلبہ بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے نوجوانوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے روزگار کمانے والے افراد کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی دیگر صوبوں کی نسبت کاروباری اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس کی بار بار بندش سے کاروباری ماحول مزید متاثر ہو رہا ہے اور عوام و تاجر برادری کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اکثر انٹرنیٹ سروس کی بندش کی کوئی واضح اور ٹھوس وجہ بھی عوام اور تاجر برادری کو نہیں بتائی جاتی، اگر کسی ناگزیر صورتحال کے باعث سروس بند کرنا ضروری ہو تو متعلقہ اداروں کو عوام کو بروقت آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سروس کی بندش اور بحالی کے حوالے سے واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے رہنماؤں نے حکومت بلوچستان، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس کی بلاجواز بندش کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے، سروس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور اگر کسی ناگزیر صورتحال کے باعث سروس بند کرنا ضروری ہو تو کم سے کم وقت میں اسے بحال کیا جائے تاکہ تاجروں، طلبہ، کاروباری افراد اور عوام کو مزید مشکلات اور مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں