ایران جنگ سے پیٹرولیم کمپنیاں پیسا بنا رہی ہیں تو ٹیکس لگائیں؛ ٹرمپ سے مطالبہ

25

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعتراف کہ ایران جنگ کے باعث بڑی تیل کمپنیاں ضرورت سے زیادہ منافع کما رہی ہیں ان کے لیے نئی سیاسی مشکل بن گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ماحولیاتی تنظیموں، صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اگر صدر تڑمپ واقعی اپنی بات پر یقین رکھتے ہیں تو بڑی آئل کمپنیوں پر ونڈ فال پرافٹس ٹیکس عائد کریں تاکہ غیر معمولی منافع کا کچھ حصہ عوام کو واپس مل سکے۔

یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کی دو بڑی توانائی کمپنیوں ایکسون موبل اور شیورون نے بھی رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے اربوں ڈالر کے غیر معمولی منافع کا اعلان کیا ہے۔

پیٹرول کمپنیوں کا ریکارڈ منافع

شیورون نے بتایا کہ اس کی دوسری سہ ماہی کی آمدنی تقریباً 400 فیصد اضافے کے بعد 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ایکسون موبل کا منافع دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہو گیا۔

ان نتائج کے بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کمپنیاں پیٹرول کی قلت کی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بہت زیادہ پیسہ کما رہی ہیں مجھے یہ پسند نہیں۔ انہیں اس منافع کا کچھ حصہ عوام کو واپس دینا چاہیے۔

ماحولیاتی تنظیموں کا سخت ردعمل

صارفین کے حقوق کی تنظیم پبلک سٹیزن کے توانائی پروگرام کے ڈائریکٹر ٹائسن سلوکم نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان ان کی اپنی پالیسیوں سے متصادم ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد تیل کمپنیوں کو بے شمار مراعات دیں، ماحولیاتی قوانین نرم کیے اور ایران کے خلاف جنگی پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں اور انہی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا اضافی منافع ملا۔

انھوں نے کہا کہ اگر صدر واقعی سمجھتے ہیں کہ تیل کمپنیاں حد سے زیادہ کمائی کر رہی ہیں تو انہیں فوری طور پر ونڈ فال پرافٹس ٹیکس کی حمایت کرنی چاہیے۔

چند ماہ پہلے ٹرمپ کا مؤقف مختلف تھا

دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2026 میں صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا کے لیے فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم (امریکا) بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔

اسی دوران انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز بند بھی کر دے تو اس کا امریکا پر محدود اثر پڑے گا کیونکہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔

تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بین الاقوامی سپلائی چین اور عالمی تجارت سے متاثر ہوتی ہیں اس لیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی پوری دنیا میں قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں