اسماء جتک کو انصاف فراہم کرنے میں سرکار اور سردار دونوں بے بس ہیں ، نیشنل پارٹی

35

نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسماء جتک کے والد کے قاتل اتنے بااثر ہیں کہ سرکاری مشینری سمیت ملزمان کی نشاندہی ، نقل و حرکت اور ٹھکانوں کی نشاندہی میں معاون ثابت ہونے والی جدید ٹیکنالوجی بھی بے بس ہے اور اسی طرح بے پناہ الزامات کا سامنا کرنے کے باوجود جھالاوان اور اس کے روایات کے پاسدار سردار بھی ایسے خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔

گویا کہ یہ قبائلی منصب صرف ان کے ذاتی سیاسی و معاشی مفادات کا پاسدارہے ، پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ اسماْجتک واقعہ میں اس وقت تک متاثرہ خاندان کے چھ افراد بے گناہ قتل ہوچکے ہیں جبکہ وزیراعلی سے لیکر چیف آف جھالاوان تک نے چیف کے دستار زیب سر کررکھے ہیں۔

سرکار اور سردار دونوں بے بسی کا شکار ہیں اور اسما جتک ہفتہ بھر اغواہ کاروں کے چنگل میں رہے اور بلوچ روایات تار تار ہوتے گئے ان کا پچھتر سالہ والد بزگوار سمیت چھ افراد سمیت سفاک قاتلوں کے ہاتھوں مارے اور اسما جتک قران اٹھاکر تحفظ و انصاف کا بھیک مانگتا رہا یہ سب اس چیز کا غمازی کرتے ہیں کہ یہ بڑے بڑے منصب محض ڈرامہ اور ڈھکوسلہ تک محدود ہوکررہ گئے ہیں۔

جبکہ سرکار اور اسکی مشینری مکمل طورپر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے نیشنل پارٹی سارے عمل کو معاشرے کی تنذلی ، روایات کا تماشا تصور کرتے ہوئے قاتلوں کے ساتھ آہینی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے ڈرامہ بازی کے بجائے عملی اقدامات کیے جاہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں