ؔعلما کرام نے پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریاتی اساس کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا: جے یو آئی کوئٹہ

33

جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد نے کہا ہے کہ اکابر علما کرام اور دینی قیادت کی لازوال جدوجہد، قربانیوں اور مسلسل فکری و سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی نظریاتی اساس اور اسلامی تشخص آج بھی محفوظ ہے۔

ملک کے اسلامی تشخص اور نظریاتی شناخت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو علما کرام اور دینی قوتوں نے ہمیشہ آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کے ذریعے ناکام بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو مشکل اور نازک حالات کا سامنا کرنا پڑا، علما کرام نے قوم کی رہنمائی اور رہبری کا فریضہ انجام دیتے ہوئے عوام کو مایوسی سے نکالا اور انہیں اتحاد، صبر، استقامت اور آئینی جدوجہد کا راستہ دکھایا۔

مدارسِ دینیہ اور علما کرام نے تعلیم، اصلاح، دعوت، فلاح و بہبود اور معاشرتی خدمت کے میدان میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وہ قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے بجائے علما اور مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈا، بے بنیاد الزامات اور انہیں بدنام کرنے کی کوششیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دینی اداروں اور علما کرام نے ہمیشہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

دریں اثنا جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کی جانب سے جاری تنظیمی دوروں کے سلسلے میں ضلعی مجلسِ عاملہ کے اراکین اور ضلعی کمیٹیوں نے مختلف یونٹوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ ان دوروں میں مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، مولانا محمد سلیمان، مولانا حافظ رشید احمد، حافظ مسعود احمد، مولانا شعیب جدون، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، حاجی ولی محمد بڑیچ، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی محمد ابوبکر، مفتی رشید احمد حقانی، حاجی عطا محمد شمشوزئی اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔

ضلعی کمیٹیوں نے محمود آباد یونٹ پشتون آباد، نواں کلی یونٹ، حلقہ 39 کلی بادیزئی یونٹ پشتون آباد، ارباب کرم خان روڈ یونٹ، حسان بن ثابت یونٹ سرکی روڈ، حلقہ 20 شالدرہ، مولانا عبدالقادر یونٹ بھوسہ منڈی، دیوبند یونٹ مشرقی بائی پاس، پرکانی آباد یونٹ سمیت مختلف یونٹوں کا دورہ کیا اور وہاں منعقدہ مجالسِ عاملہ کے اجلاسوں میں شرکت کی۔تنظیمی دوروں کے دوران یونٹوں کی مجموعی کارکردگی، مجالسِ عاملہ و شوری کی فعالیت، اجلاسوں کے تسلسل، شعبہ جات کی کارکردگی، کارکنان سے رابطے، مالی نظم و ضبط، تنظیمی ریکارڈ کی تکمیل، ضلعی سرکلرز و ہدایات پر عمل درآمد اور آئندہ کے تنظیمی اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ضلعی کمیٹیوں نے یونٹ ذمہ داران سے تنظیمی امور کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں اور درپیش مسائل، انتظامی کمزوریوں اور تنظیمی ضروریات پر مشاورت کی۔اس موقع پر ضلعی کمیٹیوں کے اراکین نے یونٹ مجالسِ عاملہ کو ضلعی مجلسِ عاملہ کے فیصلوں، تنظیمی ترجیحات، آئندہ کے لائحہ عمل اور ذمہ داران کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونٹوں میں باقاعدگی کے ساتھ اجلاسوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے، کارکنان سے مسلسل رابطہ رکھا جائے، شعبہ جات کو فعال کیا جائے، تنظیمی ریکارڈ مکمل اور مرتب رکھا جائے اور ضلعی نظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیمی استحکام محض اجلاسوں اور رسمی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ مسلسل رابطے، باہمی مشاورت، ذمہ داری کے احساس، نظم و ضبط اور عملی فعالیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یونٹ کے ہر ذمہ دار اور کارکن کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں