لورالائی شہر میں پینے کا پانی ناپید عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

33

لورالائی شہر میں پینے کا پانی ناپید عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے مین پائپ لائن جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار آفیسران تنخوا لورالائی سے اور انتظامی امور کوئٹہ سے چلا رہے ہیں چیف سکریٹری بلوچستان ۔سکیرٹری پبلک ھیلتھ ۔اور ڈپٹی کمشنر فوری طور پر آفیسران کو لورالائی حاضر کروائیں اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر لورالائی کے شہریوں کو پانی فراہم کرنے میں فوری کاروائی کریں ۔

ڈویژنل ہیڈ کوارٹر لورالائی کی عوام عرصہ دراز سے پینے کے پانی کے لئیے درپدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں محکمہ پبلک ھیلتھ کے آفیسران تنخواہیں لورالائی سے اور دیگر امور کوئیٹہ سے چلا رہے ہیں پبلک ھیلتھ کے پانی کی مین پائپ لائن شہر کے جنکشن نالوں کے اندر سے گزر رہے ہیں اور جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں تقریبا چھ ماہ سے پانی کا ایک قطرہ بھی نلوں میں نہیں آیا ہے کھبی کبھار غلطی سے کسی علاقے میں پانی چھوڑ دیا جاتا ہے وہ پانی گٹر کا پانی اور انتہائی بدبو دار ہوتا ہے اور اس پانی سے لورالائی کے شہری اور بچے پولیو اور ہیپاٹائٹس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں محکمہ پبلک ھیلتھ کی جان بوجھ کر شہر کا پانی فراہم نہیں کر رہا ہے کیونکہ ٹینکر مافیا اور کو ماہانہ بھتے کی بھاری رقم فراہم کرتے ہیں لورالائی کے عوامی حلقوں نے چیف سکریٹری بلوچستان ۔

سکیرٹری پبلک ھیلتھ ۔اور ڈپٹی کمشنر لورالائی سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئیٹہ سے چلانے والوں کو فوری طور پر ٹرانسفر کر کے لورالائی کے باسیوں کو پانی فراہم کرنے کے احکامات جاری کریں عوام کو بنیادی سہولیات پہنچانا اسٹیٹ کی زمہ داری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں